Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2443

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

6 hadiths in this chapter

11890

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11890

Sahih

۔ (۱۱۸۹۰)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُوْنَا اِلَی السَّحُوْرِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ: ((ھَلُمَّ اِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ہمیں ماہ رمضان میں سحری کے لیے بلانے کے لیے فرماتے: بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ پھر میں نے ایک موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ یا اللہ! معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھنے پڑھنے اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔

11891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11891

Sahih

۔ (۱۱۸۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عُمَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہٗ ذَکَرَ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ ھَادِیًا مَہْدِیًّا وَاھْدِبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اسے راہ دکھانے والا ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب فرما۔

11892

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11892

Sahih

۔ (۱۱۸۹۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّی یُحَدِّثُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَخَذَ الْإِدَاوَۃَ بَعْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَتْبَعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہَا، وَاشْتَکٰی أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَبَیْنَا ہُوَ یُوَضِّیئُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ فَقَالَ: یَا مُعَاوِیَۃُ! إِنْ وُلِّیتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْدِلْ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّی مُبْتَلًی بِعَمَلٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پانی کا برتن لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جاتے، ایک موقع پر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف ایک یا دو مرتبہ سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں سر براہ حکومت بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل سے کام لینا۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ارشاد سننے کے بعد مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے حکومت (اقتدار) ضرور ملے گی،(کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو فرما دیا تھا)۔

11893

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11893

Sahih

۔ (۱۱۸۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ اَنَّ مُعَاوِیَۃَ دَخَلَ بَیْتًا فِیْہِ ابْنُ عَامِرٍ وَابْنُ الزُّبَیْرِ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہٗ مُعَاوِیَۃُ: اجْلَسْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَمْثُلُ لَہُ الْعِبَادُ قِیَامًا فَلْیَتَبَوَّاْ بَیْتًا فِی النَّارِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر اور ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن سیدنا ابن زبیر بیٹھے رہے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔

11894

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11894

Sahih

۔ (۱۱۸۹۴)۔ عَنْ مُجَاھِدِ وَعَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ مُعَاوِیَۃَ (ابْنَ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَصَّرَ مِنْ شَعْرِہِ بِمِشْقَصٍ، فَقُلْنَا لابْنِ عَبَّاس: مَا بَلَغَنَا ھٰذَا إِلَّاعَنْ مُعَاوِیَۃَ، فَقَالَ: مَا کَانَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّہَمًا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبے چوڑے پھل سے اپنے بال تراشے تھے۔ مجاہد اور عطا کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ بات ہمیں صرف سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے موصول ہوئی ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں تہمت زدہ نہیں ہیں (یعنی وہ یہ خبر دینے میں سچے ہیں)۔

11895

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11895

Sahih

۔ (۱۱۸۹۵)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ لَہُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَکَ رَجُلًا فَیَقْتُلَکَ؟ فَقَالَ: مَا کُنْتِ لِتَفْعَلِیہِ وَأَنَا فِی بَیْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْإِیمَانُ قَیْدُ الْفَتْکِ۔)) کَیْفَ أَنَا فِی الَّذِی بَیْنِی وَبَیْنَکِ وَفِی حَوَائِجِکِ قَالَتْ: صَالِحٌ، قَالَ: فَدَعِینَا وَإِیَّاہُمْ حَتَّی نَلْقٰی رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں گئے تو سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ میں کسی کو تمہاری گھات میں تمہیں قتل کرنے کے لیے بٹھا دوں اور وہ تمہیں قتل کر دے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی۔ (یا آپ ایسا نہیں کر سکتیں) کیونکہ میں حفظ و امان کی حدود کے اندر ہوں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایمان دھوکے سے قتل کرتے سے مانع ہے۔ اچھا اب آپ یہ بتائیں کہ میں آپ کے اور آپ کی ضروریات کے پورا کرنے میں میں کیسا جا رہا ہوں؟ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ٹھیک ہو۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس آپ ہمیں اور لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑیں،یہاں تک کہ ہم اپنے رب سے جا ملیں۔ (مراد یہ ہے کہ آپ میرے اور لوگوں کے معاملات میں دخل نہ دیا کریں)