Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2442

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

7 hadiths in this chapter

11883

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11883

Sahih

۔ (۱۱۸۸۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((إنَّہٗ یُحْشَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْنَ یَدَیِ الْعُلَمَائِ نَبَذَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں فرمایا: وہ قیامت کے دن اہل علم سے ایک تیر کی پھینک پرآگے آگے جا رہے ہوں گے۔

11884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11884

Sahih

۔ (۱۱۸۸۴)۔ وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْحَمُ أُمَّتِیْ أَبُوْ بَکْرٍ، وَأَشَدُّھَا فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُہَا حَیَائً عُثْمَانُ، وَأَعَلَمُہَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ۔))(مسند احمد: ۱۴۰۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ابو بکر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں،میری امت میں سے عمر دین کے بارے میں بڑے سخت ہیں،عثمان سب سے بڑھ کر حیا دار ہیں اور سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حلال و حرام کا علم سب سے زیادہ ہے۔

11885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11885

Sahih

۔ (۱۱۸۸۵)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ! اِنِّیْ لَأُحِبُّکَ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنَا وَاللّٰہِ أُحِبُّکَ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ اُوْصِیْکَ بِکَلِمَاتٍ تَقُوْلُھُنَّ فِیْ کُلِّ صَلَاۃٍ، اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! مجھے تم سے محبت ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تم ہر نماز (کے آخر میں) یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ (یا اللہ! اپنا ذکر کرنے، اپنی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے اور اپنی عبادت بہتر طور پر کرنے میں میری مدد فرما)۔

11886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11886

Sahih

۔ (۱۱۸۸۶)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حَمِیْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْیَمَنِ خَرَجَ مَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوصِیہِ، وَمُعَاذٌ رَاکِبٌ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی تَحْتَ رَاحِلَتِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((یَا مُعَاذُ إِنَّکَ عَسَی أَنْ لَا تَلْقَانِی بَعْدَ عَامِی ہٰذَا، أَوْ لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِی ہٰذَا أَوْ قَبْرِی۔)) فَبَکٰی مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْہِہِ نَحْوَ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِی الْمُتَّقُونَ مَنْ کَانُوا وَحَیْثُ کَانُوا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوار تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روپڑے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: سب لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔

11887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11887

Sahih

۔ (۱۱۸۸۷)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ، حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الْأَوْدِیِّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْیَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ، فَأُلْقِیَتْ عَلَیْہِ مَحَبَّتِی فَمَا فَارَقْتُہُ حَتّٰی حَثَوْتُ عَلَیْہِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَیِّتًا رَحِمَہُ اللَّہُ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلٰی أَفْقَہِ النَّاسِ بَعْدَہُ فَأَتَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِی: کَیْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ یُصَلُّونَ الصَّلَاۃَ لِغَیْرِ وَقْتِہَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا تَأْمُرُنِی إِنْ أَدْرَکَنِی ذٰلِکَ؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَاجْعَلْ ذٰلِکَ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل سیدنا معاذ بن جبل یمنی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں نے سنا کہ انہوں نے سحری کے وقت تیز اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، ان کے دل میں میری محبت جاگزیں ہو گئی ، اور میں ان کی وفات تک ان سے جدا نہ ہوا اور میں نے عرض شام میں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، پھر میں نے غور نہ کیا کہ ان کے بعد زیادہ علم والا شخص کون ہے ؟ چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چلا گیا ، انہوں نے مجھ سے کہا : تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا ، جب تمہارے حکمران نمازوں کو بے وقت یعنی تاخیر سے ادا کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : اگر مجھے ایسے حالات کا سامنا ہو تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : تم نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز کو نفل شمار کر لینا ۔

11888

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11888

Sahih

۔ (۱۱۸۸۸)۔ عَنْ أَبِی مُنِیبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ: خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَکَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ: إِنَّہَا رَحْمَۃُ رَبِّکُمْ، وَدَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ، وَقَبْضُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ، اللَّہُمَّ أَدْخِلْ عَلٰی آلِ مُعَاذٍ نَصِیبَہُمْ مِنْ ہٰذِہِ الرَّحْمَۃِ، ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِہِ ذٰلِکَ، فَدَخَلَ عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: {الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلَا تَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ} [البقرۃ: ۱۴۷] فَقَالَ مُعَاذٌ: {سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء َ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِینَ} [الصافات: ۱۰۲]۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب ہے ۔ یا اللہ ! آل معاذ پر اس رحمت میں سے ان کا حصہ نازل فرما ۔ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اتر کر اپنے بیٹے عبدالرحمن کے پاس آئے ، عبدالرحمن نے کہا : (الْحَقُّ مِنْ رَبَّکَ فَلا تَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ) . حق تمہارے رب کی طرف سے ہے ، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو ۔ یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہُ مِنْ الصَّابِرِینَ) .تم عنقریب مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ۔

11889

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11889

Sahih

۔ (۱۱۸۸۹)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَتُہَاجِرُونَ إِلَی الشَّامِ فَیُفْتَحُ لَکُمْ، وَیَکُونُ فِیکُمْ دَائٌ کَالدُّمَّلِ أَوْ کَالْحَزَّۃِ، یَأْخُذُ بِمَرَاقِّ الرَّجُلِ یَسْتَشْہِدُ اللّٰہُ بِہِ أَنْفُسَہُمْ وَیُزَکِّی بِہَا أَعْمَالَہُمْ۔)) اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطِہِ ہُوَ وَأَہْلَ بَیْتِہِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْہُ، فَأَصَابَہُمْ الطَّاعُونُ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِی أُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ فَکَانَ یَقُولُ: مَا یَسُرُّنِی أَنَّ لِی بِہَا حُمْرَ النَّعَمِ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

اسماعیل بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب ارض شام کی طرف ہجرت کر جاؤ اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوگا اور تمہارے اندر گوشت کے ٹکڑے کی مانند ایک بیماری (یعنی طاعون) داخل ہو گی، جو انسان کے پیٹ کے نچلے حصے پر ااثر انداز ہوگی، اللہ تعالیٰ اس بیماری کے ذریعے لوگوں کو مقام شہادت سے نوازے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ کر ے گا۔ یا اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس بیماری کا وافر حصہ عطا فرما،چنانچہ ان لوگوں کو طاعون کی بیماری نے آ لیا اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی انگشت شہادت زخمی ہو گئی تو وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میری انگلی بچ جاتی اور مجھے سرخ اونٹ مل جاتے۔