Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2432

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

1 hadith in this chapter

11860

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11860

Sahih

۔ (۱۱۸۶۰)۔ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ شَیْئٌ فَأَعْطَاہُ نَاسًا وَتَرَکَ نَاسًا، وَقَالَ جَرِیرٌ: أَعْطٰی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا، قَالَ: فَبَلَغَہُ عَنِ الَّذِینَ تَرَکَ أَنَّہُمْ عَتِبُوْا وَقَالُوْا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی أُعْطِی نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا وَأُعْطِی رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا۔)) قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: ((ذِی وَذِی وَالَّذِی أَدَعُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی أُعْطِی أُعْطِی أُنَاسًا لِمَا فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَأَکِلُ قَوْمًا إِلٰی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْغِنَی وَالْخَیْرِ مِنْہُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ۔)) قَالَ: وَکُنْتُ جَالِسًا تِلْقَائَ وَجْہِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِکَلِمَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُمْرَ النَّعَمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمروبن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مال غنیمت آیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں میں اس کو تقسیم کر دیا اور بعض لوگوں کو چھوڑ دیا، جن لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مال نہیں دیا تھا،انہوں نے خفگی کا اظہار کیا، جب ان کی یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کی اور پھر فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا اور بعض کو چھوڑ دیتا ہوں، حالانکہ میں جن کو نہیں دیتا، وہ مجھے ان افراد کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میں دیتا ہوں، جن لوگوں کے دلوں میں حرص اور طمع ہوتی ہے، میں ان کو دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے دلوں میں استغنا اور بھلائی رکھی ہے، میں انہیں اللہ کی ان عطا کردہ نعمتوں کے سپرد کر تا ہوں، عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔ سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے حق میں یہ بات سن کر کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کے مقابلے میں مجھے سرخ اونٹ لینا زیادہ پسند نہیں ہیں۔