Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11715
۔ (۱۱۷۱۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَسْلَمْتُ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اجْعَلْ لِقَوْمِی مَا أَسْلَمُوْا عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَاسْتَعْمَلَنِی عَلَیْہِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِی أَبُو بَکْرٍ رضی اللہ عنہ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِی عُمَرُ مِنْ بَعْدِہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۴۸)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اسلام قبول کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قبول اسلام کے وقت میری قوم کے لوگوں کے پاس جو اموال ہیں، آپ وہ اموال انہی کی ملکیت میں رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور مجھے میری قوم پر امیر مقرر کر دیا، بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے میری قوم پر امیر مقرر کیے رکھا۔