Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2370

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11668

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11668

Sahih

۔ (۱۱۶۶۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِمْتُ فَرَأَیْتُنِیْ فِی الْجَنَّۃِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِیئٍ یَقْرَئُ فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا حَارِثَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ۔)) فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَاکَ الْبِرُّ کَذَاک البِّرُ۔)) وَکَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سو گیا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا اور میں نے وہاں قرآن پڑھتے ایک آدمی کی آواز سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتلایا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کے حق میں فرمایا: حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے، حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ صحابی لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا۔

11669

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11669

Sahih

۔ (۱۱۶۶۹)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام جَالِسٌ فِی الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہَلْ رَأَیْتَ الَّذِی کَانَ مَعِی؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّہُ جِبْرِیلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَیْکَ السَّلَامَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ (مسجد کے قریب) المقاعد جگہ میں بیٹھے تھے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور میں آگے گزر گیا، جب میں واپس آیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں سے واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بیٹھے آدمی کو تم نے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔