Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2347

فضائل و مناقب کی کتاب

ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں

7 hadiths in this chapter

11576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11576

Sahih

۔ (۱۱۵۷۶)۔ قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِیْنَۃِ)، فَقَالَ لِی: أَمْسِکْ عَلَیَّ الْبَابَ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ، قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: أَبُوبَکْرٍ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قُفِّ الْبِئْرِ) وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُمَرُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، قَالَ: ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ مَعَہَا بَلَائٌ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَسَیَلْقٰی بَلَائً)، فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو ۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔

11577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11577

Sahih

۔ (۱۱۵۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوا قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَبُوْ بَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((أَنْتَ مَعَ أَبِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے بھی آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں بھی اندر کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ اس کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم انہیں اندر آنے کی اجازت اور جنت کی بشارت دے دو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے۔

11578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11578

Sahih

۔ (۱۱۵۷۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسِبْتُہُ، قَالَ: فِی حَائِطٍ، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَذَہَبْتُ فَإِذَا ہُوَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ، قَالَ: فَجَعَلَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ صَبْرًا حَتّٰی جَلَسَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکن یہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔

11579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11579

Sahih

۔ (۱۱۵۷۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! رَأَیْتُ کَأَنَّ دَلْوًا دُلِّیَتْ مِنَ السَّمَائِ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ مِنْہُ شُرْبًا ضَعِیفًا، قَالَ عَفَّانُ: وَفِیہِ ضَعْفٌ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ حَتّٰی تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْہُ فَانْتَضَحَ عَلَیْہِ مِنْہَا شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، انہوں نے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر جا گرے۔

11580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11580

Sahih

۔ (۱۱۵۸۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا عَلٰی حِرَائٍ وَمَعَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَتَحَرَّکَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اثْبُتْ حِرَائُ! فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوہ حراء پر تشریف فرما تھے،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک کوہ حراء (خوشی سے) جھومنے لگا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حراء ٹھہر جا، تجھ پر نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔

11581

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11581

Sahih

۔ (۱۱۵۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَعُدُّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّ وَأَصْحَابُہُ مُتَوَافِرُوْنَ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ثُمَّ نَسْکُتُ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں ہم ابو بکر، عمر اور عثمان کے نام اسی ترتیب سے لیا کرتے اور اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے تھے، جبکہ صحابۂ کرام کثیر تعداد میں تھے ۔

11582

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11582

Zaeef

۔ (۱۱۵۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: ((رَأَیْتُ قُبَیْلَ الْفَجْرِ کَأَنِّی أُعْطِیتُ الْمَقَالِیدَ وَالْمَوَازِینَ، فَأَمَّا الْمَقَالِیدُ فَہٰذِہِ الْمَفَاتِیحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِینُ فَہِیَ الَّتِی تَزِنُونَ بِہَا، فَوُضِعْتُ فِی کِفَّۃٍ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ، فَوُزِنْتُ بِہِمْ فَرَجَحْتُ، ثُمَّ جِیئَ بِأَبِی بَکْرٍ فَوُزِنَ بِہِمْ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِہِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْْْْْ۔)) (مسند احمد: ۵۴۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھی یہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔