Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2346

فضائل و مناقب کی کتاب

ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں

14 hadiths in this chapter

11562

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11562

Sahih

۔ (۱۱۵۶۲)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: فَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالثَّانِی، قَالَ: فَذَکَرَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُکُمْ بِالثَّالِثِ، قَالَ: وَسَکَتَ فَرَأَیْنَا أَنَّہُ یَعْنِی نَفْسَہُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ یَقُولُ ہٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ وَإِلَّا صُمَّتَا۔ (مسند احمد: ۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلاؤں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔

11563

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11563

Sahih

۔ (۱۱۵۶۳)۔ حَدَّثَنِی اَبُوْ جُحَیْفَۃَ الَّذِیْ کَانَ عَلِیٌّ یُسَمِّیْہِ وَھْبَ الْخَیْرِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: یَا أَبَا جُحَیْفَۃَ! اَلا أُخْبِرُکَ أَفْضَلَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، وَلَمْ أَکُنْ أَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْہُ، قَالَ: أَفْضَلُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَبَعْدَ أَبِیْ بَکْرٍ عُمَرُ، وَبَعْدَ ھُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ یُسَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو حجیفہ، جنہیں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔

11564

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11564

Sahih

۔ (۱۱۵۶۴)۔ عَنْ وَھْبِ نِ الشَّوَائِیِّ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَنْ خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ فَقُلْتُ: أَنْتَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، قَالَ: لَا، خَیْرُ ھٰذِہِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ۔ (مسند احمد: ۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔

11565

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11565

Sahih

۔ (۱۱۵۶۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَبَقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلّٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، یَعْفُوا اللّٰہُ عَمَّنْ یَشَائُ۔ (مسند احمد: ۸۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے آگے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی ہی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔

11566

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11566

Sahih

۔ (۱۱۵۶۶)۔ وَعَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: کَانَ أَبِیْ مِنْ شُرَطِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ، فَحَدَّثَنِیْ أَبِیْ: أَنَّہٗ صَعِدَ الْمِنْبَرَ یَعْنِیْ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَصَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ وَالثَّانِیْ عُمَرُ، وَقَالَ: یَجْعَلُ اللّٰہُ تَعَالَی الْخَیْرَحَیْثُ أَحَبَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔

11567

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11567

Zaeef

۔ (۱۱۵۶۷)۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ إِلَی الْمَسْجِدِ فِیہِ الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَمَا مِنْہُمْ أَحَدٌ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنْ حَبْوَتِہِ إِلَّا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَیَتَبَسَّمُ إِلَیْہِمَا وَیَتَبَسَّمَانِ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔

11568

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11568

Zaeef

۔ (۱۱۵۶۸)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا کَانَ مَنْزِلَۃُ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: کَمَنْزِلَتِہِمَا السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوں نے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کو حاصل ہے۔

11569

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11569

Sahih

۔ (۱۱۵۶۹)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَہُ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُ رَأْسَہُ تَحْتَ الْوَدِیِّ فَیَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَہُ عَلِیًّا۔)) فَدَخَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

11570

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11570

Zaeef

۔ (۱۱۵۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : ((لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِیْ مَشْورَۃٍ مَا خَلَفْتُکُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔

11571

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11571

Sahih

۔ (۱۱۵۷۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔

11572

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11572

Zaeef

۔ (۱۱۵۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالُوْا لَنَا: انْطَلَقُوْا إِلٰی مَسْجِدِ التَّقْوٰی، فَانْطَلَقْنَا نَحْوَہُ فَاسْتَقْبَلْنَاہُ یَدَاہُ عَلٰی کَاہِلِ أَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَثُرْنَا فِیْ وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰؤُلَائِ یَا اَبَا بَکْرٍ؟)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَاَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَسَمُرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

11573

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11573

Sahih

۔ (۱۱۵۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَسُوقُ بَقَرَۃً إِذْ رَکِبَہَا فَضَرَبَہَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِہٰذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَۃِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! بَقَرَۃٌ تَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((فَإِنِّی أُومِنُ بِہٰذَا أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ غَدًا غَدًا وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ، ((وَبَیْنَا رَجُلٌ فِی غَنَمِہِ إِذْ عَدَا عَلَیْہَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْہَا فَطَلَبَہُ فَأَدْرَکَہُ فَاسْتَنْقَذَہَا مِنْہُ فَقَالَ: یَا ہٰذَا اسْتَنْقَذْتَہَا مِنِّی فَمَنْ لَہَا یَوْمَ السَّبُعِ یَوْمَ لَا رَاعِیَ لَہَا غَیْرِی؟)) قَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! ذِئْبٌ یَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((إِنِّی أُومِنُ بِذٰلِکَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ۔ (مسند احمد: ۷۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔

11574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11574

Sahih

۔ (۱۱۵۷۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: ((یَا عَلِیُّ! ھٰذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَشَبَابِہَا عَدَا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوں کے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔

11575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11575

Sahih

۔ (۱۱۵۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَعَمِلَ بِعَمَلِہِ وَسَارَ بِسِیرَتِہِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَعَمِلَ بِعَمَلِہِمَا وَسَارَ بِسِیرَتِہِمَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَََََ۔ (مسند احمد: ۱۰۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے سارے امور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔