Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11554
۔ (۱۱۵۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ وَہُمْ رَہْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) قَالُوْا، ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ فِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ۔)) قَالَ مَعْمَرٌ: أَخْبَرَنِیْ ثَابِتٌ وَقَتاَدَۃُ اَنَّہُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَذْکُرُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ إِلاَّ أَنَّہٗ قَالَ: ((بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُوْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۷)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ انصار کے سب سے اچھے گھرانے کون کون سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور بیان فرمائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو عبدالاشھل، یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر بنو حارث بن خزرج۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر انصار کے سب ہی گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ معمر سے مروی ہے کہ ثابت اور قتادہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان دونوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے سنا تو انہوں نے سب سے پہلے بنو نجار کا اور ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا ذکر کیا۔