Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2343

فضائل و مناقب کی کتاب

انصار کے فضائل و مناقب

24 hadiths in this chapter

11530

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11530

Sahih

۔ (۱۱۵۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: ((أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِی وَالْأَنْصَارَ شِعَارِی، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَۃً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَۃَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِیَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی مُحْسِنِہِمْ وَلْیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَہُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ ہٰذَا الَّذِی بَیْنَ ہَاتَیْنِ)) وَأَشَارَ إِلٰی نَفْسِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا ۔

11531

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11531

Sahih

۔ (۱۱۵۳۱)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ فَہَمَّ بِہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ لَہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا (أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا) اقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہُ عَنْ سَرِیرِہِ وَأَلْزَقَ خَدَّہُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ فَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوں نے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔

11532

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11532

Sahih

۔ (۱۱۵۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ النَّاسَ لَیَکْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ یَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ أَمْرًا یَنْفَعُ فِیہِ أَحَدًا، فَلْیَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔

11533

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11533

Sahih

۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جاؤ گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔

11534

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11534

Sahih

۔ (۱۱۵۳۴)۔ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَۃَ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَمَاعَتِہِمْ فَقَالُوْا إِلٰی مَتٰی نَنْزَعُ مِنْ ہٰذِہِ الْآبَارِ، فَلَوْ أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا اللّٰہَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ ہٰذِہِ الْجِبَالِ عُیُونًا، فَجَائُ وْا بِجَمَاعَتِہِمْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُمْ قَالَ: ((مَرْحَبًا وَأَہْلًا لَقَدْ جَائَ بِکُمْ إِلَیْنَا حَاجَۃٌ)) قَالُوْا: إِی وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أُوتِیتُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ فَقَالُوْا: الدُّنْیَا تُرِیدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَۃَ، فَقَالُوْا بِجَمَاعَتِہِمْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا أَنْ یَغْفِرَ لَنَا، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَیْرِنَا، قَالَ: ((وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَوَالِینَا؟ قَالَ: ((وَمَوَالِی الْأَنْصَارِ)) قَالَ: وَحَدَّثَتْنِی أُمِّی عَنْ أُمِّ الْحَکَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُہْبَانَ: أَنَّہَا سَمِعَتْ أَنَسًا یَقُولُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ہٰذَا غَیْرَ أَنَّہُ زَادَ فِیہِ: ((وَکَنَائِنِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔

11535

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11535

Sahih

۔ (۱۱۵۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: شَقَّ عَلَی الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوْا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُونَہُ أَنْ یُجْرِیَ لَہُمْ نَہْرًا سَیْحًا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللّٰہِ لَا تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَیْتُکُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ لَکُمْ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اغْتَنِمُوہَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَۃَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا بِالْمَغْفِرَۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیراب کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔

11536

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11536

Sahih

۔ (۱۱۵۳۶)۔ اِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَاقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ، فَإِنَّہُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِی عَلَیْہِمْ وَبَقِیَ الَّذِی لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔

11537

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11537

Sahih

۔ (۱۱۵۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی الصِّبْیَانَ وَالنِّسَائَ مُقْبِلِینَ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُمْثِلًا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ یَعْنِی الْأَنْصَارَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدَہِ اِنَّکُمْ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔

11538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11538

Sahih

۔ (۱۱۵۳۸)۔ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَتَبَ إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ زَمَنَ الْحَرَّۃِ یُعَزِّیہِ فِیمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِہِ وَقَوْمِہِ، وَقَالَ أُبَشِّرُکَ بِبُشْرٰی مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَاغْفِرْ لِنِسَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔

11539

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11539

Sahih

۔ (۱۱۵۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ أَتْبَاعًا، وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاکَ فَادْعُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، قَالَ: فَدَعَا لَہُمْ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَہُمْ مِنْہُمْ، قَالَ: فَنَمَّیْتُ ذٰلِکَ إِلَی ابْنِ أَبِی لَیْلٰی، فَقَالَ: زَعَمَ ذٰلِکَ زَیْدٌ یَعْنِی ابْنَ أَرْقَمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔

11540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11540

Sahih

۔ (۱۱۵۴۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اٰیَۃُ الْاِیْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآیَۃُ النِّفَاقِ بُغْضُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔

11541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11541

Sahih

۔ (۱۱۵۴۱)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا الْحَیُّ مِنَ الْاَنْصَارِ مِحْنَۃٌ حُبُّہُمْ اِیْمَانٌ وَبُغْضُہُمْ نِفَاقٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔

11542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11542

Sahih

۔ (۱۱۵۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبْغِضُ الْاَنْصَارَ رَجُلٌ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ أَوْ إِلّّا أَبْغَضَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔

11543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11543

Zaeef

۔ (۱۱۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَایَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَرَایَۃَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، وَکَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ، کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا یَکُونَ تَحْتَ رَایَۃِ الْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۳۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔

11544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11544

Sahih

۔ (۱۱۵۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ یَنْدَفِعُ النَّاسُ فِی شُعْبَۃٍ أَوْ فِی وَادٍ وَالْأَنْصَارُ فِی شُعْبَۃٍ لَانْدَفَعْتُ فِی شِعْبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹی یا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔

11545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11545

Sahih

۔ (۱۱۵۴۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوْا آثَرَ عَلَیْنَا غَیْرَنَا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَمَعَہُمْ، ثُمَّ خَطَبَہُمْ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! أَلَمْ تَکُونُوا أَذِلَّۃً فَأَعَزَّکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا ضُلَّالًا فَہَدَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا فُقَرَائَ فَأَغْنَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا تُجِیبُونَنِی، أَلَا تَقُولُونَ!! أَتَیْتَنَا طَرِیدًا فَآوَیْنَاکَ، وَأَتَیْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاکَ، أَلَا تَرْضَوْنَ! أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبُقْرَانِ (یَعْنِی الْبَقَرَ) وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتُدْخِلُونَہُ بُیُوتَکُمْ؟ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَکُوْا وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً وَسَلَکْتُمْ وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً سَلَکْتُ وَادِیَکُمْ أَوْ شُعْبَتَکُمْ، لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتّٰی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسوا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیں ہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جاؤ اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقت یہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹی یا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔

11546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11546

Sahih

۔ (۱۱۵۴۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ وَفِیْہ: فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِی أَثَرَۃً شَدِیدَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، فَإِنِّی فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔)) قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔

11547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11547

Sahih

۔ (۱۱۵۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یُحَدِّثُ: أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی الْأَنْصَارِ: ((لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا یُبْغِضُہُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّہُمْ فَأَحَبَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَأَبْغَضَہُ اللّٰہُ۔)) قَالَ قُلْتُ لَہُ: أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَائَ؟ قَالَ: إِیَّایَ یُحَدِّثُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا:جی سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔

11548

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11548

Sahih

۔ (۱۱۵۴۸)۔ عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔

11549

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11549

Sahih

۔ (۱۱۵۴۹)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِیُّ، وَہُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ تِیبَ عَلَیْہِمْ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَہُ فَقَالَ فِی خُطْبَتِہِ: ((أَمَّا بَعْدُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَإِنَّکُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِیدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِیدُ عَلٰی ہَیْئَتِہَا الَّتِی ہِیَ عَلَیْہَا الْیَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَأَکْرِمُوا کَرِیمَہُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میں نہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔

11550

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11550

Sahih

۔ (۱۱۵۵۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ الْمُشْرِکِینَ لَمَّا رَہِقُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا أَرْہَقُوہُ أَیْضًا، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنِّی؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبِہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

11551

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11551

Zaeef

۔ (۱۱۵۵۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ زِیَارَۃَ الْأَنْصَارِ خَاصَّۃً وَعَامَّۃً، فَکَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّۃً أَتَی الرَّجُلَ فِی مَنْزِلِہِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّۃً أَتَی الْمَسْجِدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔

11552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11552

Zaeef

۔ (۱۱۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُقْبَۃَ، وَکَانَ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقُلْتُ: خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِیُّ، فَبَلَغَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلَّا قُلْتَ خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِیُّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔

11553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11553

Sahih

۔ (۱۱۵۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَضُرُّ امْرَأَۃً نَزَلَتْ بَیْنَ بَیْتَیْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَیْنَ أَبَوَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔