Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2317

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان

2 hadiths in this chapter

11437

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11437

Sahih

۔ (۱۱۴۳۷)۔ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، قَالَ: کَانَ عُرْوَۃُیَقُولُ لِعَائِشَۃَ: یَا أُمَّتَاہُ! لَا أَعْجَبُ مِنْ فَہْمِکِ، أَقُولُ: زَوْجَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِنْتُ أَبِی بَکْرٍ، وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِکِ بِالشِّعْرِ وَأَیَّامِ النَّاسِ، أَقُولُ: ابْنَۃُ أَبِی بَکْرٍ وَکَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ وَمِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ، وَلٰکِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِکِ بِالطِّبِّ، کَیْفَ ہُوَ؟ وَمِنْ أَیْنَ ہُوَ؟ قَالَ: فَضَرَبَتْ عَلٰی مَنْکِبِہِ، وَقَالَتْ: أَیْ عُرَیَّۃُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِہِ أَوْ فِی آخِرِ عُمْرِہِ، فَکَانَتْ تَقْدَمُ عَلَیْہِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ کُلِّ وَجْہٍ، فَتَنْعَتُ لَہُ الْأَنْعَاتَ وَکُنْتُ أُعَالِجُہَا لَہُ فَمِنْ ثَمَّ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کرتے تھے: اماں جان! میں آپ کی ذہانت اور سمجھ داری پر تعجب نہیں کرتا، کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زوجہ اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دختر ہیں۔ (اس لیے سمجھ دار ہونا تعجب انگیز نہیں)، مجھے آپ کے علم اشعار اور تاریخی معلومات پر بھی تعجب نہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دختر ہیں، جو کہ اشعار اور تاریخ کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ مجھے تو آپ کی طبی معلومات پر تعجب ہے کہ یہ آپ کو کیسے حاصل ہوئیں؟ تو انہوں نے میری بات سن کر میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ مار کر کہا: اے عُرَیَّۃُ! آخری عمر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار رہتے تھے تو آپ کی خدمت میں اطراف و اکناف سے عرب و فود آیا کرتے تھے اوروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے مختلف دوائیں اور نسخے بیان کرتے اور میں آپ کا علاج معالجہ کیا کرتی تھی۔ مجھے یہ معلومات اس طرح حاصل ہوئیں۔

11438

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11438

Zaeef

۔ (۱۱۴۳۸)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ لَمِیسَ أَنَّہَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ لَہَا: الْمَرْأَۃُ تَصْنَعُ الدُّہْنَ تَحَبَّبُ إِلٰی زَوْجِہَا، فَقَالَتْ: أَمِیطِی عَنْکِ تِلْکَ الَّتِی لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہَا،قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَۃٌ لِعَائِشَۃَ: یَا أُمَّہْ! فَقَالَتْ عَائِشَۃُ إِنِّی لَسْتُ بِأُمِّکُنَّ وَلٰکِنِّی أُخْتُکُنَّ، قَالَتْ عَائِشَۃُ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْلِطُ الْعِشْرِینَ بِصَلَاۃٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا کَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیایہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں میں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔