Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2312

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

11419

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11419

Sahih

۔ (۱۱۴۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیُّ النَّاسِ کَانَ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: عَائِشَۃُ، قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: أَبُوْھَا۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ انھوں نے کہا: عائشہ سے، میں نے کہا: مردوں میں سے ؟ انھوں نے کہا: اس کے باپ سے۔

11420

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11420

Zaeef

۔ (۱۱۴۲۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اِنَّہُ لَیُہَوِّنُ عَلَیَّ أَنِیْ رَأَیْتُ بِیَاضَ کَفِّ عَائِشَۃَ فِی الْجَنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ام المؤمنین سید عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میرے لیےیہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ہتھیلی کی چمک جنت میں دیکھی ۔

11421

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11421

Zaeef

۔ (۱۱۴۲۱)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُہْدِیَتْ لَہُ ہَدِیَّۃٌ فِیہَا قِلَادَۃٌ مِنْ جَزْعٍ، فَقَالَ: ((لَأَدْفَعَنَّہَا إِلٰی أَحَبِّ أَہْلِی إِلَیَّ۔)) فَقَالَتْ النِّسَائُ ذَہَبَتْ بِہَا ابْنَۃُ أَبِی قُحَافَۃَ فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمَامَۃَ بِنْتَ زَیْنَبَ فَعَلَّقَہَا فِی عُنُقِہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔

11422

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11422

Zaeef

۔ (۱۱۴۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِۃِ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ: ((ھٰذِہِ قِسْمَتِیْ، (ثُمَّ یَقُوْلُ) اَللّٰھُمَّ ھٰذَا فِعلِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔

11423

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11423

Zaeef

۔ (۱۱۴۲۳)۔ عَنْ سُمَیَّۃَ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَدَ عَلٰی صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ فِی شَیْئٍ، فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ: یَا عَائِشَۃُ! أَرْضِی عَنِّی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَکِ یَوْمِی، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَہَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْہُ بِالْمَائِ لِیَفُوحَ رِیحُہُ، فَقَعَدَتْ إِلٰی جَنْبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِلَیْکِیَا عَائِشَۃُ، إِنَّہُ لَیْسَیَوْمَکِ۔)) قَالَتْ: {ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ} وَأَخْبَرَتْہُ بِالْأَمْرِ فَرَضِیَ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے راضی ہوگئے۔

11424

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11424

Sahih

۔ (۱۱۴۲۴)۔ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَا رَسُولَ اللّٰہِ، کُلُّ نِسَائِکَ لَہَا کُنْیَۃٌ غَیْرِی، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتَنِی أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) فَکَانَ یُقَالُ لَہَا: أُمُّ عَبْدِ اللّٰہِ حَتّٰی مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔