Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2311

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ

9 hadiths in this chapter

11410

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11410

Sahih

۔ (۱۱۴۱۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ اَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَیَجِیْئُ صَوَاحِبِیْ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ فاِذَا رَأَیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْقَمَعْنَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُہُنَّ عَلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔

11411

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11411

Zaeef

۔ (۱۱۴۱۱)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ لَہَا: ((إِنِّی أَعْرِفُ غَضَبَکِ إِذَا غَضِبْتِ، وَرِضَاکِ إِذَا رَضِیتِ)) قَالَتْ: وَکَیْفَ تَعْرِفُ ذٰلِکَ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ: یَا مُحَمَّدُ، وَإِذَا رَضِیتِ قُلْتِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: تم جب ناراض یا خوش ہوتی ہو تو میں تمہاری ناراضی یا خوشی کو جان جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیسے جان جاتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ناراض ہوتی ہو تو یوں کہتی ہو: اے محمد اور جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: اے اللہ کے رسول۔

11412

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11412

Sahih

۔ (۱۱۴۱۲)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً، وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذَاکَ؟ قَالَ: ((إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً فَإِنَّکِ تَقُولِینَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی تَقُولِینَ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَام)) قُلْتُ: أَجَلْ وَاللّٰہِ، مَا أَہْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: تم جب مجھ سے خوش یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہو تی ہو تو یوں کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا: بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ترک کرتی ہوں (دل میں آپ کی محبت اور مقام وہی رہتا ہے)۔

11413

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11413

Sahih

۔ (۱۱۴۱۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أُرِیتُکِ فِی الْمَنَامِ مَرَّتَیْنِ وَرَجُلٌ یَحْمِلُکِ فِی سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیرٍ فَیَقُولُ: ہٰذِہِ امْرَأَتُکَ، فَأَقُولُ إِنْ یَکُ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُمْضِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں، کوئی آدمی تمہیں ایک سفید ریشمی ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا ۔

11414

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11414

Sahih

۔ (۱۱۴۱۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ حُجْرَتِیْ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِہِمْ یَسْتُرُنِیْ بِرِدَائِہِ لِکَیْ أَنْظُرَ اِلٰی لَعِبِہِمْ ثَمَّ یَقُوْمُ حَتّٰی أَکُوْنَ اَنَا الَّتِیْ أَنْصَرِفُ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود واپس پھرتی تھی۔

11415

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11415

Sahih

۔ (۱۱۴۱۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَقْنِی عَلٰی مَنْکِبَیْہِ لِأَنْظُرَ إِلٰی زَفْنِ الْحَبَشَۃِ حَتَّی کُنْتُ الَّتِی مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری ٹھوڑی اپنے کندھوں پر رکھوائی تاکہ میں حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھ لوں، یہاں تک کہ انہیں دیکھ دیکھ کر میں ہی تھک کر پیچھے ہٹ گئی۔

11416

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11416

Sahih

۔ (۱۱۴۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: اَنَّ الْحَبَشَۃَ لَعِبُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَانِیْ، فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْکِبِہِ حَتّٰی شَبِعْتُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ حبشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دکھانے کے لیے جنگی کھیلوں کا مظاہر پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا لیا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی،یہاں تک کہ میں نے جی بھر کر یہ منظر دیکھا۔

11417

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11417

Sahih

۔ (۱۱۴۱۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُونَ فَزَجَرَہُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ، فَإِنَّہُمْ بَنُو أَرْفِدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، وہاں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹ دیا۔لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو رہنے دو، یہ بنو ارفدہ ہیں، (یعنی ایسا کرنا ان کے معمولات میں سے ہے۔)

11418

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11418

Sahih

۔ (۱۱۴۱۸)۔ أَنَا ابْنُ أَبِی الزَّنَّادِ: عَنْ اَبِی الزَّنَّادِ قَالَ: قَالَ لِی عُرْوَۃُ: إِنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ لَتَعْلَمُ یَہُودُ أَنَّ فِی دِینِنَا فُسْحَۃً: ((إِنِّی أُرْسِلْتُ بِحَنِیفِیَّۃٍ سَمْحَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ اس روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عمر! ان کو کھیلنے دو) تاکہ یہودیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں کافی وسعت ہے، بے شک مجھے آسان دین و شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔