Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2292

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا

3 hadiths in this chapter

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Zaeef

۔ (۱۵/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، دَخَلَ عَلَی أُمِّ سُلَیْمٍ وَفِی الْبَیْتِ قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ، فَشَرِبَ مِنْ فِیہَا وَہُوَ قَائِمٌ قَال: فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ فَمَ الْقِرْبَۃِ فَہُوَ عِنْدَنَا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور جبکہ گھر میں لٹکا ہوا ایک مشکیزہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مشکیزے کا منہ کاٹ لیا، اب وہ ہمارے پاس موجود ہے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۱۶/۱۱۳۲۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّہِ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی الْبَیْتِ قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ، فَشَرِبَ مِنْہَا قَائِمًا فَقَطَعْتُ فَاہَا وَإِنَّہُ لَعِنْدِی۔ (مسند احمد: ۲۷۹۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ماں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور گھر میں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا اور اس نے مشکیزہ کا منہ کاٹ لیا، اب وہ میرے پاس موجود ہے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۱۷/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَال: رَأَیْتُ قُبَّۃً حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَأَیْتُ بِلَالًا خَرَجَ بِوَضُوئٍ لِیَصُبَّہُ فَابْتَدَرَہُ النَّاسُ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا تَمَسَّحَ بِہِ، وَمَنْ لَمْ یَجِدْ مِنْہُ شَیْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ یَدِ صَاحِبِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سیدنا ابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نصب کیا گیا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی لائے تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ڈالیں (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کریں)، پس لوگ (وضو والا پانی سے تبرک حاصل کرنے کے لیے) لپکے، جس کو کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو اپنے جسم پر مل دیا اور جو آدمی پانی حاصل نہ کر سکا، اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے پانی لینا شروع کر دیا۔