Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322
۔ (۸/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّ قَال: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَہُ فِی مَسِیرَۃٍ إِذْ نَادَاہُ أَعْرَابِیٌّ بِصَوْتٍ جَہْوَرِیٍّ، فَقَال: یَا مُحَمَّدُ، فَقُلْنَا: وَیْحَکَ، اغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ، فَإِنَّکَ قَدْ نُہِیتَ عَنْ ذَلِکَ، فَقَال: وَاللّٰہِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: ((ہَائَ۔)) وَأَجَابَہُ عَلَی نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِہِ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: وَأَجَابَہُ نَحْوًا مِمَّا تَکَلَّمَ بِہِ، فَقَال: أَرَأَیْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمَّا یَلْحَقْ بِہِمْ؟ قَال: ((ہُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۶۸)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں تھے، اچانک ایک بدّو نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا اور کہا: اے محمد! ہم نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، اپنی آواز کو پست رکھ، تجھے اس طرح آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنی آواز کو پست نہیں کروں گا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کے انداز کے مطابق ہی جواب دیا، سفیان راوی نے کہا: جیسے اس نے بات کی تھی، اسی طرح کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا، پھر اس نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کا خیال ہے، جو کچھ لوگوں سے محبت تو کرتا ہے، لیکن وہ ان کو ملا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی آدمی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس کو محبت ہو گی۔