Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11201
۔ (۱۱۲۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: قَالَ: جَائَ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِیُّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: اِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ فَاسْتَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْقِبْلَۃَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ النَّاسُ: ھَلَکُوْا فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِہِمْ، اَللّٰھُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۱۳)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ قبیلہ دوس اللہ کا نافرمان ہے اور انہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بددعا فرمائیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کر لیا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شروع کی، لوگوں نے سوچا کہ اب قبیلۂ دوس تباہ ہو جائے گا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بد دعا کرنے لگے ہیں)۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت عطا فرما، اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ،یا اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ۔