Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2266

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تواضع کا بیان

16 hadiths in this chapter

11185

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11185

Sahih

۔ (۱۱۱۸۵)۔ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَا سَیِّدَنَا وَابْنَ سَیِّدِنَا وَیَا خَیْرَنَا وَابْنَ خَیْرِنَا! فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! قُولُوْا بِقَوْلِکُمْ وَلَا یَسْتَہْوِیَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُولُ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِی فَوْقَ مَا رَفَعَنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مخاطب ہو کرکہا: اے ہمارے سردار! اور اے ہمارے سردار کے فرزند! اے وہ ذات جو ہم میں سب سے بہتر ہے اور ہم میں سے سب سے افضل کی اولاد ہے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: لوگو! تم معروف بات ہی کر لیا کرو اور ہر گز شیطان تمہیں غلو میں مبتلا نہ کردے، میں محمد بن عبداللہ اور اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مقام دیا ہے، تم مجھے اس سے اوپر لے جاؤ۔

11186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11186

Sahih

۔ (۱۱۱۸۶)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰی عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَاِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میری مدح میں اس طرح غلو نہ کیا کرو، جس طرح نصاری نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا، میں تو محض اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔

11187

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11187

Sahih

۔ (۱۱۱۸۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: جَلَسَ جِبْرِیلُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ فَإِذَا مَلَکٌ یَنْزِلُ، فَقَالَ جِبْرِیلُ: إِنَّ ہٰذَا الْمَلَکَ مَا نَزَلَ مُنْذُ یَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَۃِ، فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ رَبُّکَ، قَالَ: أَفَمَلِکًا نَبِیًّایَجْعَلُکَ أَوْ عَبْدًا رَسُولًا؟ قَالَ جِبْرِیلُ: تَوَاضَعْ لِرَبِّکَ یَا مُحَمَّدُ، قَالَ: ((بَلْ عَبْدًا رَسُولًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف فرما تھے, انہوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، پس اچانک اوپر سے ایک فرشتہ نیچے اتر رہا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہا: یہ فرشتہ جب سے پیدا ہوا، تب سے اب تک یہ کبھی زمین پر نہیں آیا، جب وہ آیا تو اس نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے مجھے اس پیغام کے ساتھ آپ کی طرف بھیجا ہے کہ وہ آپ کو بادشاہ بنائے یا بندہ اور رسول؟ جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے محمد! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے رب کے لیے تواضع اختیار کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ رسول بننا چاہتا ہوں۔

11188

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11188

Sahih

۔ (۱۱۱۸۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: اِنْ کَانَتِ الْأَمَۃُ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَتَأْخُذُ بِیَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَنْطَلِقُ بِہِ فِیْ حَاجَتِہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۹۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ (رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ا سقدر متواضع تھے کہ) مدینہ کی ایک لونڈی آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے کسی کام کے لیے لے جاتی (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی بلا پس و پیش اس کے ہم راہ تشریف لے جاتے) ۔

11189

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11189

Sahih

۔ (۱۱۱۸۹)۔ قَالَ: إِنَّ اِمْرَاَۃً لَقِیَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی إِلَیْکَ حَاجَۃً، قَالَ: ((یَا أُمَّ فُلَانٍ! اجْلِسِی فِی أَیِّ نَوَاحِی السِّکَکِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَیْکِ۔)) قَالَ: فَقَعَدَتْ فَقَعَدَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَضَتْ حَاجَتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے ایک راستہ میں ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کام ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں! تم مدینہ کی جس گلییا راستے میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں بھی تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیٹھ گئی اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے، یہاں تک کہ اس کی ضرورت کو پورا کر دیا۔

11190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11190

Sahih

۔ (۱۱۱۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَی السِّقَایَۃَ فَقَالَ: ((اسْقُوْنِیْ۔)) فَقَالُوْا: إِنَّ ھٰذَا یَخُوْضُہُ النَّاسُ وَلٰکِنَّا نَأْتِیْکَ بِہِ مِنَ الْبَیْتِ، فَقَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ، اِسْقُوْنِیْ مِمَّا یَشْرَبُ مِنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔

11191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11191

Sahih

۔ (۱۱۱۹۱)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ قَالَ یَہُودِیٌّ بِسُوقِ الْمَدِینَۃِ: وَالَّذِی اصْطَفٰی مُوسٰی عَلَی الْبَشَرِ، قَالَ: فَلَطَمَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَقُولُ ہٰذَا وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِینَا، قَالَ: فَأَتَی الْیَہُودِیُّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌیَنْظُرُونَ} قَالَ: ((فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ فَإِذَا مُوسٰی آخِذٌ بِقَائِمَۃٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِی أَرَفَعَ رَأْسَہُ قَبْلِی أَمْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَی اللَّہُ، وَمَنْ قَالَ أَنِّی خَیْرٌ مِنْ یُونُسَ بْنِ مَتّٰی فَقَدْ کَذَبَ۔)) (مسند احمد: ۹۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے بازار میں ایک یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے، اس کے یہ الفاظ سن کر غیرت کے مارے ایک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہوتے ہوئے تمہیںیہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ وہ یہودی شکایت لے کر رسول ا للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: {وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌیَنْظُرُونَ} … اور صور پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں کی مخلوق بے ہوش ہو جائے گی سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہئے گا۔ پھر اس میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو سب لوگ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت سب سے پہلے میں ہوش میں آکر سر اٹھاؤں گا، لیکن دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک پائے کو پکڑ کر کھڑے ہوں گے، مجھے اس چیز کا علم نہیں ہو گا کہ انھوں نے مجھ سے پہلے ہوش میں آکر سراٹھایا ہو گا یا وہ بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ ہونے والوں میں سے ہوں گے۔ اور (یاد رکھو کہ) جس نے یوں کہا کہ میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) یونس بن متی سے افضل ہوں تو اس نے غلط کہا۔

11192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11192

Zaeef

۔ (۱۱۱۹۲)۔ عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِییَوْمٍ شَدِیْدِ الْحرِّ نَحْوَ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَکَانَ النَّاسُ یَمْشُوْنَ خَلْفَہُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَالِکَ فِی نَفْسِہِ، فَجَلَسَ حَتّٰی قَدَّمَہُمْ أَمَامَہُ لِئَلاَّ یَقَعَ فِیْ نَفْسِہِ مِنَ الْکِبْرِ فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، إِذَا بِقَبْرِیْنَ قَدْ دَفَنُوْا فِیْہِمَا رَجُلَیْنِ، قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ دَفَنْتُمْ ہَاہُنَا الْیَوْمَ؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیُّ اللّٰہِ! فُلَانٌ وَ فُلَانٌ، قَالَ: ((إِنَّہُمَا لَیَعُذَبَّاَنِ الْآنَ وَیُفْتَنَانِ فِی قَبْرَیْہِمَا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَ ذَالکَ؟ قَالَ: ((أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَایَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمِۃِ۔)) وَأَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطْبَۃً، فَشَقَّہا ثُمَّ جَعَلَہَا عَلَی الْقَبْرَیْنِ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّاللّٰہُ! وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: ((لَیُخَفَّفَنَّ عَنْہُمَا۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہُ! وَحَتّٰی مَتٰییُعَذِّبُہُمَا اللّٰہُ؟ قَالَ: ((غَیْبٌ لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ وَلَولَا تََمْرِیْغُ قُلُوْبِکُمْ أَوْ تَزَیُّدُکُمْ فِی الْحَدِیْثِ لَسَمِعْتُمْ مَا اَسْمَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو (کہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیےکیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیاتیا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔

11193

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11193

Sahih

۔ (۱۱۱۹۳)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشُوْنَ اَمَامَہٗاِذَاخَرَجَ،وَیَدَعُوْنَ ظَہْرَہُ لِلْمَلَائِکَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی طرف جانے کے لیے نکلتے تو صحابہ کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے آگے چلتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔

11194

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11194

Sahih

۔ (۱۱۱۹۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قِیْلَ لِعَائِشَۃَ: مَا کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ فِیْ بَیْتِہِ؟ قَالَتْ: کَمَا یَصْنَعُ أَحَدُکُمْ یَخْصِفُ نَعْلَہٗ وَیَرْقَعُ ثَوْبَہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۵۲۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر آکر کس قسم کے کام کیا کرتے تھے؟ (یعنی گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مصروفیت کیا ہوتی تھی؟) انھوں نے کہا: (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر آتے تو ایسے ہی کام کیا کرتے تھے) جیسے تم کرتے ہو، مثلا اپنے جوتے کی مرمت کر لیتے اور کپڑا سی لیتے۔

11195

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11195

Sahih

۔ (۱۱۱۹۵)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَۃَ، ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْمَلُ فِیْ بَیْتِہِ شَیْئًا؟ قَالَتْ: نَعَمْ کَانَ یَخْصِفُ نَعْلَہٗوَیَخِیْطُ ثَوْبَہٗوَیَعْمَلُ فِیْ بَیْتِہِ کَمَا یَعْمَلُ أَحَدُکُمْ فِیْ بَیْتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا کہ آیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے جوتے کو مرمت کر لیتے، کپڑے کو سلائی کر لیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جیسے تم میںسے کوئی اپنے گھر میں کام کاج کرتا ہوتا ہے۔

11196

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11196

Sahih

۔ (۱۱۱۹۶)۔ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: سُئِلَتْ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْمَلُ فِیْ بَیْتِہِ؟ قَالَتْ: کَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ، یَفْلِیْ ثَوْبَہٗ،وَیَحْلُبُ شَاتَہٗ،وَیَخْدُمُ نَفْسَہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۶۷۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا گیا کہ گھر میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کیا مصروفیت ہوتی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ بھی بشر ہی تھے، اس لیے (عام دوسرے انسانوں کی طرح) اپنے کپڑوں کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں جوئیں دیکھتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام کر لیتے۔

11197

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11197

Sahih

۔ (۱۱۱۹۷)۔ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ یَہُودِیًّا دَعَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی خُبْزِ شَعِیرٍ وَإِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ فَأَجَابَہُ، وَقَدْ قَالَ أَبَانُ: أَیْضًا أَنَّ خَیَّاطًا۔ (مسند احمد: ۱۳۸۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو کی روٹی اور بو دار سالن کی دعوت دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ راوی حدیث ابان نے ایک دفعہ یوں ذکر کیا کہ دعوت دینے والا شخص درزی تھا۔

11198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11198

Sahih

۔ (۱۱۱۹۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْیَمَنَ اَوْ قَالَ: الشَّامَ، فَرَأَی النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَأَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأَ (أَیْ فَکَّرَ) فِیْ نَفْسِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَقُّ أَنْ یُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَاَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّکَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرَ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَا تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا کُلَّہُ حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا عَلَیْہَا کُلَّہُ، حَتّٰی لَوْسَأَلَھَا نَفْسَہَا وَھِیَ عَلٰی ظَہْرِ قَتَبٍ لَاَعْطَتْہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔

11199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11199

Sahih

۔ (۱۱۱۹۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: إِنَّہُ أَتَی الشَّامَ فَرَأَی النَّصَارٰی، فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: فَقُلْتُ: لِأَیِّ شَیْئٍ تَصْنَعُونَ ہٰذَا؟ قَالُوْا: ہٰذَا کَانَ تَحِیَّۃَ الْأَنْبِیَائِ قَبْلَنَا، فَقُلْتُ: نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ ہٰذَا بِنَبِیِّنَا، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہُمْ کَذَبُوْا عَلٰی أَنْبِیَائِہِمْ کَمَا حَرَّفُوا کِتَابَہُمْ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَیْرًا مِنْ ذٰلِکَ السَّلَامَ تَحِیَّۃَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں ۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔

11200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11200

Zaeef

۔ (۱۱۲۰۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: قُوْمُوْا بِنَا نَسْتَغِیْثُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ھٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا یُقَامُ اِلَیَّ اِنَّمَا یُقَامُ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ (مسند احمد: ۲۳۰۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ اٹھو تاکہ اس منافق کے بارے میں ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد حاصل کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدد طلب کرنے کے لیے میرا ارادہ نہیں کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے۔