Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2259

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا

11 hadiths in this chapter

11120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11120

Zaeef

۔ (۱۱۱۲۰)۔ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَیْسٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صِفْہُ لَنَا؟ فَقَالَ: کَانَ لَیْسَ بِالذَّاہِبِ طُولًا وَفَوْقَ الرَّبْعَۃِ، إِذَا جَائَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَہُمْ أَبْیَضَ شَدِیدَ الْوَضَحِ، ضَخْمَ الْہَامَۃِ، أَغَرَّ أَبْلَجَ ہَدِبَ الْأَشْفَارِ، شَثْنَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ، إِذَا مَشَییَتَقَلَّعُ کَأَنَّمَا یَنْحَدِرُ فِی صَبَبٍ، کَأَنَّ الْعَرَقَ فِی وَجْہِہِ اللُّؤْلُؤُ، لَمْ أَرَ قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ مِثْلَہُ، بِأَبِی وَأُمِّی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

یوسف بن مازن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کریں، انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ طویل قامت نہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم متوسط قد سے قدرے دراز تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے توان سے نمایاں لگتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت چمکیلی سفید تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک بڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ انور خوب روشن تھا، ابرو آپس میں ملے ہوئے نہ تھے، پلکیں گھنی اور طویل تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک بھرے بھرے تھے،جب چلتے تو قوت سے یوں چلتے جیسے بلندی سے پستی کی طرف جا رہے ہوں، آپ کے چہرے پرپسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا، میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔

11121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11121

Sahih

۔ (۱۱۱۲۱)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَخْمَ الرَّأْسِ، عَظِیمَ الْعَیْنَیْنِ، ہَدِبَ الْأَشْفَارِ، مُشْرَبَ الْعَیْنِ بِحُمْرَۃٍ، کَثَّ اللِّحْیَۃِ، أَزْہَرَ اللَّوْنِ، إِذَا مَشٰی تَکَفَّأَ، کَأَنَّمَا یَمْشِی فِی صُعُدٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِیعًا، شَثْنَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن علی اپنے باپ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں خوب موٹی، پلکیں طویل اور آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی گھنی تھی، رنگ خوب روشن تھا، آپ چلتے تو ذرا سامنے کو جھک کر چلتے، گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں، کسی طرف متوجہ ہوتے تو پوری طرح ادھر مڑتے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے بھرے تھے۔

11122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11122

Sahih

۔ (۱۱۱۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْسَ بِالطَّوِیلِ، وَلَا بِالْقَصِیرِ، ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، شَثْنُ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ مُشْرَبٌ وَجْہُہُ حُمْرَۃً طَوِیلُ الْمَسْرُبَۃِ، ضَخْمُ الْکَرَادِیسِ، إِذَا مَشٰی تَکَفَّأَ تَکَفُّؤًا، کَأَنَّمَا یَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ، لَمْ أَرَ قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ مِثْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) نافع بن جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ تو بہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پست قد تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر بڑا اور داڑھی گھنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں پر گوشت تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ انور سرخی مائل سفید تھا، اعضاء کی ہڈیاں مضبوط تھیں، سینہ سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے تو ذرا جھک کر یوں چلتے گویا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلندی سے اتر رہے ہیں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔

11123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11123

Sahih

۔ (۱۱۱۲۳)۔ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَنْعَتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَیْنِ، أَہْدَبَ أَشْفَارِ الْعَیْنَیْنِ، بَعِیدَ مَا بَیْنَ الْمَنْکِبَیْنِ،یُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِیعًا، وَیُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِیعًا، قَالَ رَوْحٌ فِی حَدِیثِہِ: بِأَبِی وَأُمِّی لَمْ یَکُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ،زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ضَخْمَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَہٗمِثْلَہٗ۔ (مسند احمد: ۹۷۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو صالح مولی التوأمہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کر رہے تھے، انھوں نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ طویل (یا عریض) تھے، آنکھوں کی پلکیں بھی طویل تھیں، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا نمایاں فاصلہ تھا (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سینہ چوڑا تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس طرف بھی مڑتے، پوری طرح مڑتے اور متوجہ ہوتے۔روح راوی نے اپنی حدیث میں کہا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، آپ عادۃًیا تکلفاً فحش گو نہ تھے، نہ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بازاروں (اور گلیوں) میں بلند آواز سے بولتے تھے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک گوشت سے بھرے ہوئے تھے، میں نے آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

11124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11124

Sahih

۔ (۱۱۱۲۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجِلًا مَرْبُوعًا بَعِیدَ مَا بَیْنَ الْمَنْکِبَیْنِ، عَظِیمَ الْجُمَّۃِ إِلٰی شَحْمَۃِ أُذُنَیْہِ، عَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَائُ، مَا رَأَیْتُ شَیْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِوَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدھے بالوں والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قد درمیانہ تھا، آپ کے کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سینہ کشادہ تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال کانوں کی لووں تک طویل تھے، ایک بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ پوشاک زیب تن کی ہوئی تھی، میں نے آپ سے بڑھ کر خوبصورت آدمی کبھی نہیں دیکھا۔

11125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11125

Sahih

۔ (۱۱۱۲۵)۔ عَنْ رَبِیعَۃِ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَنْعَتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا شَائَ أَنْ یَنْعَتَہُ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَبْعَۃً مِنْ الْقَوْمِ، لَیْسَ بِالْقَصِیرِ وَلَا بِالطَّوِیلِ الْبَائِنِ، أَزْہَرَ لَیْسَ بِالْآدَمِ وَلَا بِالْأَبْیَضِ وَلَا الْأَمْہَقِ، رَجِلَ الشَّعْرِ لَیْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ، بُعِثَ عَلٰی رَأْسِ أَرْبَعِینَ، أَقَامَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا، وَتُوُفِّیَعَلٰی رَأْسِ سِتِّینَ سَنَۃً، لَیْسَ فِی رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ عِشْرُونَ شَعَرَۃً بَیْضَائَ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک اپنے ہی انداز میں بیان کر رہے تھے، میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں میانہ قد والے تھے، نہ بہت پست قد تھے، نہ بہت زیادہ طویل قامت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ چمکیلا تھا، نہ گندم گوںتھا، نہ بالکل سفید، بلکہ گورا چمک دار تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ سخت گھنگھریالے، بلکہ ہلکا سا خم لیے ہوئے تھے۔ چالیس برس کی عمر میں نبوت سے سرفراز ہوئے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام کیا، ساٹھ برس کی عمر میں وفات پائی،آپ کے سر اور داڑھی میں سفید بال بیس بھی نہ تھے۔

11126

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11126

Sahih

۔ (۱۱۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَلِیعَ الْفَمِ، أَشْکَلَ الْعَیْنِ، مَنْہُوسَ الْعَقِبَیْنِ، قُلْتُ لِسِمَاکٍ: مَا ضَلِیعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِیمُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْکَلُ الْعَیْنِ؟ قَالَ: طَوِیلُ شُفْرِ الْعَیْنِ، قُلْتُ: مَا مَنْہُوسُ الْعَقِبِ؟ قَالَ: قَلِیلُ لَحْمِ الْعَقِبِ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منہ کشادہ تھا، آنکھوں کی سفیدی میں سرخی تھی اور ایڑیوں کا گوشت کم تھا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے دریافت کیا کہ ضَلِیعُ الْفَمِ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: کشادہ منہ والا۔ میں نے پوچھا: أَشْکَلُ الْعَیْنِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: طویل پلکوں والا۔میں نے دریافت کیا کہ مَنْہُوسُ الْعَقِبِ کا کیا معنیٰ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جس کی ایڑیوں کا گوشت کم ہو۔

11127

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11127

Zaeef

۔ (۱۱۱۲۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ فِی سَاقَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُمُوشَۃٌ، وَکَانَ لَا یَضْحَکُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَکُنْتُ إِذَا رَأَیْتُہُ قُلْتُ: أَکْحَلُ الْعَیْنَیْنِ وَلَیْسَ بِأَکْحَلَ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پنڈلیاں دوسرے اعضا کے مطابق مناسب حد تک باریک تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھلکھلا کر نہیں ہنستے تھے، بلکہ صرف مسکراتے تھے۔ جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتاتویوں محسوس ہوتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرمہ نہ ڈالا ہوتا تھا۔ (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں قدرتی طور پر سرمگیں تھیں)۔

11128

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11128

Zaeef

(۱۱۱۲۸)۔ (وَعَنْہ أَیْضًا) قَالَ: إِصْبَعُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُتَظَاہِرَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی کا بیان ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی، انگوٹھے سے لمبی تھی۔

11129

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11129

Sahih

(۱۱۱۲۹)۔ عَنْ أَشْعَثٍ أَنَّہ قَالَ لِشَیْخٍ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ کِنَانَۃَ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: بَیْنَ بُرْدَیْنِ أَحْمَرَیْنِ مَرْبُوعٌ کَثِیرُ اللَّحْمِ، حَسَنُ الْوَجْہِ، شَدِیدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، أَبْیَضُ شَدِیدُ الْبَیَاضِ، سَابِغُ الشَّعْرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

اشعث نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھنے والے بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ سے کہا: تم ہمارے سامنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ بیان کرو، اس نے کہا: آپ سرخ رنگ کی دو چادریں زیب تن کیے، میانہ قامت، پرگوشت جسم، خوب رو، بال ازحد سیاہ، رنگ انتہائی گورا، اور سر کے بال لمبے تھے۔

11130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11130

Sahih

۔ (۱۱۱۳۰)۔ عَنْ مُحَرِّشِ نِ الْخُزَاعِیِّ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ لَیْلًا فَاعْتَمَرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَصْبَحَ کَبَائِتٍ بِہَا، فَنَظَرْتُ إِلٰی ظَہْرِہِ کَأَنَّہُ سَبِیکَۃُ فِضَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محرش خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کے وقت جعرانہ سے روانہ ہو کر جا کر عمرہ ادا کیا اور واپس آگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعرانہ میں صبح کی اور یوں لگتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات یہیں جعرانہ میں ہی بسر کی ہے،میں نے آپ کی پشت پر دیکھا،یوں لگتا تھا کہ وہ چاندی کی تختی ہے۔