Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2258

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

انبیاء میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مثال اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں

5 hadiths in this chapter

11115

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11115

Sahih

۔ (۱۱۱۱۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلِی فِی النَّبِیِّینَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَحْسَنَہَا وَأَکْمَلَہَا وَتَرَکَ فِیہَا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ لَمْ یَضَعْہَا، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوفُونَ بِالْبُنْیَانِ وَیَعْجَبُونَ مِنْہُ وَیَقُولُونَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃِ! فَأَنَا فِی النَّبِیِّینَ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔)) (سند احمد: ۲۱۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء میں میری مثال اس آدمی کی مانند ہے، جو ایک انتہائی خوبصورت مکمل گھر بنائے اور اس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑدے، لوگ اس گھر کے چکر لگا لگا کر تعجب کا اظہار کریں اور کہیں: کاش کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہوتی، پس قیصرِ نبوت میں اس اینٹ والی خالی جگہ کو میں پر کرنے والا ہوں۔ !

11116

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11116

Sahih

۔ (۱۱۱۱۶)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗوَزَادَفِیْہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِیَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس اینٹ کی جگہ پر آیا ہوں اور میں نے آکر انبیاء کے سلسلہ کو مکمل کر دیا ہے۔

11117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11117

Sahih

۔ (۱۱۱۱۷)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلِی وَمَثَلُ الْأَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ یَقَعْنَ فِیہَا، قَالَ: وَہُوَ یَذُبُّہُنَّ عَنْہَا، قَالَ: وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ یَدِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور دوسرے انبیاء کی مثال اس آدمی کی مانند ہے، جس نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے آگ میں گرنے لگے اور وہ انہیں ہٹانے لگا، پس میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر تم کو آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گھستے ہو۔

11118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11118

Sahih

۔ (۱۱۱۱۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((طَعَامُ الِاثْنَیْنِ کَافِی الثَّلَاثَۃِ، وَالثَّلَاثَۃِ کَافِی الْأَرْبَعَۃِ، إِنَّمَا مَثَلِی وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَائَ تْ مَا حَوْلَہُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِیہَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِیہَا، وَمَثَلُ الْأَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہُ وَأَکْمَلَہُ وَأَجْمَلَہُ، فَجَعَلَ النَّاسُ یُطِیفُونَ بِہِ یَقُولُونَ: مَا رَأَیْنَابُنْیَانًا أَحْسَنَ مِنْ ہٰذَا إِلَّا ہٰذِہِ الثُّلْمَۃَ فَأَنَا تِلْکَ الثُّلْمَۃُ۔)) وَقِیلَ لِسُفْیَانَ: مَنْ ذَکَرَ ہٰذِہِ؟ قَالَ: أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۳۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہے، جیسے کوئی آدمی آگ جلائے، جب آگ خوب روشن ہو جائے تو پتنگے اور پروانے آکر آگ میں گرنے لگیں، میں بھی تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن تم چھڑا چھڑا کے آگ میں جاتے ہو، انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک مکمل خوبصورت گھر بنایا، لوگ اس کے گرد گھوم گھوم کر اسے دیکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت گھر نہیں دیکھا۔ اس میں صرف یہ تھوڑی سی کمی ہے، پس میں اس کمی کو پورا کرنے والا ہوں۔

11119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11119

Sahih

۔ (۱۱۱۱۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِی وَلَا نَبِیَّ۔)) قَالَ: فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ قَالَ: قَالَ: ((وَلٰکِنِ الْمُبَشِّرَاتُ۔)) قَالُوا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: ((رُؤْیَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَہِیَ جُزْئٌ مِنْ أَجْزَاء ِ النُّبُوَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (نبوت ورسالت کا سلسلہ تو بہرحال ختم ہو چکا ہے) تاہم خوش خبریوں کا سلسلہ باقی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی کا خواب، جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔