Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2242

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان

9 hadiths in this chapter

11054

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11054

Sahih

۔ (۱۱۰۵۴)۔ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَدْرُوْا أَیْنَیَقْبُرُونَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یُقْبَرَ نَبِیٌّ إِلَّا حَیْثُیَمُوتُ۔)) فَأَخَّرُوْا فِرَاشَہُ وَحَفَرُوْا لَہُ تَحْتَ فِرَاشِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن جریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتلایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کہاں دفن کریں،یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بستر کو ہٹا کر اسی کے نیچے والی جگہ کو قبر کے لیے کھودا گیا۔

11055

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11055

Sahih

۔ (۱۱۰۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَلْحَدُ وَآخَرُ یَضْرَحُ فَقَالُوْا: نَسْتَخِیرُ رَبَّنَا، فَبَعَثَ إِلَیْہِمَا فَأَیُّہُمَا سُبِقَ تَرَکْنَاہُ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ منورہ میں ایک آدمی لحد والی یعنی بغلی قبر بناتا تھا اور دوسرا صندوقی یعنی شق والی قبر بناتا تھا، صحابۂ کرام نے مشورہ کیا کہ اس بارے میں ہم اللہ تعالیٰ سے استخارہ ( یعنی خیر طلب) کرتے ہیں اور ہم ان دونوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلواتے ہیں، جو پیچھے رہ گیا ہم اسے رہنے دیں گے، سو دونوں کی طرف پیغام بھیجا گیا اور لحد والی قبر بنانے والا پہلے آگیا، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لحد تیار کی۔

11056

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11056

Sahih

۔ (۱۱۰۵۶)۔ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُلْحِدَ لَہُ لَحْدٌََََ۔ (مسند احمد: ۴۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لحد تیار کی گئی تھی۔

11057

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11057

Sahih

۔ (۱۱۰۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ المُؤْمِنِینَ قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِی مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائ،ِ قَالَ مَحَمَّدٌ: وَقَدْ حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ: بِہٰذَا الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دفن کئے جانے کا علم نہ ہو سکا تاآنکہ ہم نے بدھ کے دن رات کے وقت گینتیوں کی آوازیں سنیں۔ صاحب ِ مغازی محمد بن اسحاق نے بیان ہے کہ مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زوجہ فاطمہ بنت محمد نے بیان کی ۔

11058

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11058

Sahih

۔ (۱۱۰۵۸)۔ (وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: تُوُفِّیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَدُفِنَ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی تھی اور تدفین بدھ کی رات کو۔

11059

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11059

Sahih

۔ (۱۱۰۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جُعِلَ فِی قَبْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطِیفَۃٌ حَمْرَائُ۔ (مسند احمد: ۳۳۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر کے اندر ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔

11060

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11060

Sahih

۔ (۱۱۰۶۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِی عِیدًا، وَلَا تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قُبُورًا، وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَیَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔

11061

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11061

Sahih

۔ (۱۱۰۶۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی دَخَلَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ أَضَائَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِہِ حَتّٰی أَنْکَرْنَا قُلُوبَنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس دن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے، مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہو،ا اس دن مدینہ منورہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس کی۔

11062

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11062

Sahih

۔ (۱۱۰۶۲)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیَّ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَۃُ: یَا أَنَسُ! أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دفن کر کے واپس آئے تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ارے انس! تمہارے دلوں نے اس بات کو کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مٹی میں دفن کر کے واپس چلے آئے۔ (۱۱۰۶۲)۔ اس جسد اطہر کو دفن کرنے کے لیے مٹی تو ڈالنی ہی تھی، بس سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظمت اور اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بظاہر تو خاموش ہو گئے، لیکن وہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ مٹی ڈالنا ہمیں بھی گوارا نہ تھا، لیکن کیا کرتے، آخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم جو یہی تھا۔