Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2241

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان

2 hadiths in this chapter

11052

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11052

Sahih

۔ (۱۱۰۵۲)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ یَعْنِی الْجَوْنِیَّ عَنْ أَبِی عَسِیبٍ أَوْ أَبِی عَسِیمٍ قَالَ بَہْزٌ: إِنَّہُ شَہِدَ الصَّلَاۃَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: کَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْہِ، قَالَ: ادْخُلُوْا أَرْسَالًا أَرْسَالًا، قَالَ: فَکَانُوا یَدْخُلُونَ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ فَیُصَلُّونَ عَلَیْہِ، ثُمَّ یَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ، قَالَ: فَلَمَّا وُضِعَ فِی لَحْدِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ الْمُغِیرَۃُ: قَدْ بَقِیَ مِنْ رِجْلَیْہِ شَیْئٌ لَمْ یُصْلِحُوہُ، قَالُوْا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْہُ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ یَدَہُ فَمَسَّ قَدَمَیْہِ، فَقَالَ: أَہِیلُوْا عَلَیَّ التُّرَابَ، فَأَہَالُوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ حَتَّی بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ، فَکَانَ یَقُولُ: أَنَا أَحْدَثُکُمْ عَہْدًا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عسیبیا ابو عسیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کے موقع پر حاضر تھے، بیان کرتے ہیں: صحابہ کہنے لگے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نماز کیسے پڑھیں، انھوں نے کہا: تم گروہوں کی صورت میں اندر جاؤ، سو وہ اس دروازے سے داخل ہوتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز ادا کرتے اور پھر دوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لحد میں رکھ دیا گیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں کی جانب کچھ جگہ قابلِ اصلاح رہ گئی ہے، صحابہ نے ان سے کہا: تم لحد میں داخل ہو کر اسے ٹھیک کر آؤ، وہ اندر گئے، اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک کو مس کیا اور ساتھ ہی کہا کہ تم میرے اوپر مٹی ڈال دو، صحابہ نے ان کے اوپر مٹی ڈال دی،یہاں تک کہ ان کی نصف پنڈلیوں تک مٹیآگئی، اس کے بعد وہ باہر آگئے، وہ کہا کرتے تھے تم سب کی نسبت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے آخر میں مس کرنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں۔

11053

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11053

Sahih

۔ (۱۱۰۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی زَمَانِ عُمَرَ أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَنَزَلَ عَلٰی أُخْتِہِ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِہِ رَجَعَ فَسُکِبَ لَہُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ دَخَلَ عَلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالُوا: یَا أَبَا حَسَنٍ جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْہُ، قَالَ: أَظُنُّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَیُحَدِّثُکُمْ أَنَّہُ کَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَہْدًا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوا: أَجَلْ عَنْ ذٰلِکَ جِئْنَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: أَحْدَثُ النَّاسِ عَہْدًا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ۔ (مسند احمد: ۷۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورِ خلافت میں سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں عمرہ کیا، آپ اپنی ہمشیرہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں مہمان ٹھہرے، جب آپ عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ کے غسل کے لیے پانی رکھا گیا، چنانچہ آپ نے غسل کیا، جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو عراق کے کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے، انہوں نے کہا: اے ابو الحسن! ہم آپ سے ایک بات پوچھنے آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کے متعلق بتلائیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ لوگوں سے کہتے ہوں گے کہ ان کو سب سے آخر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: جی ہاں، ہم اسی کے متعلق آپ سے دریافت کرنے آئے ہیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے آخر میں سیدنا قثم بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے چھونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔