Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2215

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا

2 hadiths in this chapter

10946

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10946

Sahih

۔ (۱۰۹۴۶)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ قَالَ: قَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ: مَا کُنْتُ فِی غَزَاۃٍ أَیْسَرَ لِلظَّہْرِ وَالنَّفَقَۃِ مِنِّی فِی تِلْکَ الْغَزَاۃِ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: أَتَجَہَّزُ غَدًا، ثُمَّ أَلْحَقُہُ فَأَخَذْتُ فِی جَہَازِی فَأَمْسَیْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: آخُذُ فِی جَہَازِی غَدًا وَالنَّاسُ قَرِیبٌ بَعْدُ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ فَأَمْسَیْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الثَّالِثُ، أَخَذْتُ فِی جَہَازِی فَأَمْسَیْتُ فَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: أَیْہَاتَ سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا فَأَقَمْتُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ النَّاسُ یَعْتَذِرُونَ إِلَیْہِ فَجِئْتُ حَتّٰی قُمْتُ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقُلْتُ: مَا کُنْتُ فِی غَزَاۃٍ أَیْسَرَ لِلظَّہْرِ وَالنَّفَقَۃِ مِنِّی فِی ہٰذِہِ الْغَزَاۃِ، فَأَعْرَضَ عَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا یُکَلِّمُونَا، وَأُمِرَتْ نِسَاؤُنَا أَنْ یَتَحَوَّلْنَ عَنَّا، قَالَ: فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ یَوْمٍ، فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ فَقُلْتُ: أَیْ جَابِرُ نَشَدْتُکَ بِاللّٰہِ، ہَلْ عَلِمْتَنِی غَشَشْتُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یَوْمًا قَطُّ؟ قَالَ: فَسَکَتَ عَنِّی فَجَعَلَ لَا یُکَلِّمُنِی، قَالَ: فَبَیْنَا أَنَا ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَی الثَّنِیَّۃِیَقُولُ: کَعْبًا کَعْبًا، حَتّٰی دَنَا مِنِّی فَقَالَ: بَشِّرُوا! کَعْبًا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا میں غزوۂ تبوک کے موقع پر سواری اور اخراجات کے لحاظ سے جس قدر خوش حال تھا، اس سے قبل کبھی بھی اس قدر خوش حال نہیں تھا، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو گئے تو میں نے سوچا کہ میں کل تیاری کر کے روانہ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جا ملوں گا۔ تو میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا، تاآنکہ شام ہو گئی اور میں اپنی مصروفیات سے فارغ نہ ہو سکا، میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں، میں کل تیاری کر لوں گا، لوگ ابھی قریب ہی ہیں، پس میں ان سے جا ملوں گا، دوسرے دن بھی شام تک کاموں سے فارغ نہیں ہو سکا، جب تیسرا دن ہوا تو میں پھر کاموں میں مصروف رہا اور شام تک کاموں سے فارغ نہ ہو سکا، میں نے سوچا کہ اب تو دیر ہو گئی، لوگ تین دن سفر کر چکے ہیں،یہ سوچ کر میں نے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا اور یہیں ٹھہرا رہا، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے تو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرتیں کرنے لگے۔ میں بھی آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، میں نے عرض کیا میں اس غزوہ کے موقع پر سواری اور اخراجات کے لحاظ سے جس قدر خوشحال تھا، اتنا کسی دوسرے غزوہ کے موقع پر خوش حال نہیں تھا۔ ( یعنی میرا کوئی شرعی عذر نہیں تھا، بلکہ غفلت ہوئی) تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم صادر فرمایا کہ کوئی بھی شخص ہمارے ساتھ کلام نہ کرے۔ اور ہماری بیویوں کو ہم سے الگ رہنے کا حکم دیا گیا۔ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: انہی ایام میں میں ایک دن باغ کی دیوار پر چڑھ کر سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا اور میں نے کہا: اے جابر ! میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہارے علم میں ہے کہ میں نے کبھی اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دیا ہو؟ وہ میری بات سن کر خاموش رہے اور مجھ سے کو ئی بات نہیں کی۔ میں اسی طرح دن گزار رہا تھا کہ ایک دن پہاڑ کی گھاٹی کی طرف سے میں نے ایک آدمی کو سنا جو میرا نام لے کر کعب کعب پکار رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا کہ کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خوشخبری دو۔

10947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10947

Sahih

۔ (۱۰۹۴۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ لَمَّا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ أَتَی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُنْجِنِی إِلَّا بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِی إِلَی اللّٰہِ أَنْ لَا أَکْذِبَ أَبَدًا، وَإِنِّی أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً لِلّٰہِ تَعَالٰی وَرَسُولِہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکَ، فَإِنَّہُ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ: فَإِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی مِنْ خَیْبَرَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی توبہ قبول کی تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: اللہ نے مجھے محض سچ بولنے کی برکت سے اس آزمائش سے نجات دی ہے، اب میری توبہ میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ میں آئندہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خدمت میں بطور صدقہ پیش کر دوں گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنا کچھ مال رکھ لو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: جی میں خیبر سے ملنے والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔