Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10941
۔ (۱۰۹۴۱)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ لَقَوْمًا مَاسِرْتُمْ مَسِیْرًا وَلَاقَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ فِیْہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَھُمْ بِالْمَدِیْنَۃِ؟ قَالَ: ((وَھُمْ بِالْمَدِیْنَۃِ حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۳۲)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفر کیا اور جس وادی کو طے کیا، وہ تمہارے ساتھ نہ جانے کے باوجود اجرو ثواب میں تمہارے ساتھ برابر شریک رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ منورہ ہی میں رہے اور سفر کے لیے نہیں نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مدینہ میں ہی رہے، دراصل بات یہ ہے کہ عذر نے ان کو روکا ہے۔