Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2119

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے

3 hadiths in this chapter

10627

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10627

Sahih

۔ (۱۰۶۲۷)۔ عَنْ أبِیْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ الطُّفَیْلَ بْنَ عَمْرِو نِ الدَّوْسِیَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ حِصْنٍ حَصِیْنَۃٍ وَمَنْعَۃٍ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((حِصْنٌ کَانَ لِدَوْسٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) فَاَبٰی ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلَّذِیْ ذَخَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَنْصَارٍ فَلَمَّا ھَاجَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ھَاجَرَ اِلَیْہِ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو وَھَاجَرَ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ فَمَرِضَ فَجَزَعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَہُ فَقَطَعَ بِھَا بَرَاجِمَہُ، فَشَخَبَتْ یَدَاہُ حَتّٰی مَاتَ فَرَآہُ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِیْ مَنَامِہِ فَرَآہُ فِیْ ھَیْئَۃٍ حَسَنَۃٍ وَرَآہُ مُغَطِّیًایَدَہُ فَقَالَ لَہُ: مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ؟ قَالَ: غَفَرَلِیْ بِھِجْرَتِیْ اِلٰی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَمَالِیْ أَرَاکَ مُغَطِّیًایَدَکَ، قَالَ: قَالَ لِیْ: لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ قَالَ: فَقَصَّھَا الطُّفَیْلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا طفیل بن عمرو دوسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو مضبوط قلعے کی اور عزت و دفاع کی رغبت ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں دوس قبیلے کا ایک قلعہ تھا۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کی خاطر اس کی اس پیشکش کا انکار کر دیا، جو اللہ تعالیٰ نے انصاریوں کے لیے ذخیرہ کر رکھی تھی، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک اور آدمی نے بھی ہجرت کی، انھوں نے مدینہ کی آب و فضا کو ناموافق پایا اور وہ آدمی بیمار ہوگئے، پھر اس نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے (نیزے والا) پھلکا پکڑا اور اپنی انگلی کے جوڑ کاٹ دیئے، اس کے ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، سیدنا طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ اچھی حالت میں ہے، البتہ اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا ہے، انھوں نے اس سے پوچھا: تیرے ربّ نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: اس نے اپنے نبی کی طرف میرے ہجرت کی وجہ سے مجھے بخش دیا ہے، انھوں نے کہا: میں تجھے ہاتھ ڈھانپا ہوا کیوں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا: جو چیز تو نے خود خراب کی ہے، ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے، جب سیدنا طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ خواب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔

10628

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10628

Sahih

۔ (۱۰۶۲۸)۔ عَنْ جَابْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْھِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ ھَجَرَ مَا کَرِہَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ امور کو چھوڑ دیا۔

10629

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10629

Sahih

۔ (۱۰۶۲۹)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ، فَقَامَ ذٰلِکَ اوْآخَرُ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْھِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ، وَالْھِجْرَۃُ ھِجْرَتَان:ِ ھِجْرَۃُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِیْ، فَھِجْرَۃُ الْبَادِیْ أَنْ یُجِیْبَ اِذَا دُعِیَ وَیُطِیْعَ اِذَا أُمِرَ وَالْحَاضِرُ أَعْظَمُھَا بَلِیَّۃً وَأَفْضَلُھَا أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی اٹھا اور اس نے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: افضل اسلام یہ ہے کہ تیرے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سالم رہیں۔ وہی صحابی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے پروردگار کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا، دراصل ہجرت کی دو قسمیں ہیں: (ا) دیہاتی لوگوں کی ہجرت (۲) شہری لوگوں کی ہجرت۔ دیہاتی کی ہجرت یہ کہ جب اسے امیر کی طرف سے حکم دیا جائے تو وہ اسے تسلیم کرے اور جب اسے بلایا جائے تو بلاوے کا جواب دے‘ رہا مسئلہ شہری کی ہجرت کا تو اس کی مصیبت و آزمائش زیادہ سخت اور اجر عظیم ہے۔