Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2118

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا

6 hadiths in this chapter

10621

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10621

Sahih

۔ (۱۰۶۲۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا ھَاجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَبُ وَأَبُوْ بَکْرٍ رَدِیْفُہُ وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ یُعْرَفُ فِی الطَّرِیْقِ لِاِخْتِلَافِہِ اِلَی الشَّامِ وَکَانَ یَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَیَقُوْلُوْنَ: مَنْ ھٰذَا بَیْنَیَدَیْکَیَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَیَقُوْلُ: ھَادٍ یَھْدِیْنِیْ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعَثَ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی أَبِیْ اُمَامَۃَ وَأَصْحَابِہٖفَخَرَجُوْااِلَیْھِمَا فَقَالُوْا: ادْخُلَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ فَدَخَلَا، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا اَحْسَنَ مِنْ یَوْمٍ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ الْمَدِیْنَۃَ، وَشَھِدْتُ وَفَاتَہُ فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا اَقْبَحَ مِنَ الْیَوْمِ الَّذِیْ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار تھے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے ردیف تھے، راستے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہچان لیا جاتا تھا، کیونکہ وہ شام آتے جاتے وقت اس راستے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے رہتے تھے، اس لیے لوگوں نے پوچھا: اے ابو بکر! یہ آپ کے آگے والا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ میری رہنمائی کرنے والا رہبر ہے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصاری قبیلے کے مسلمان ہونے والے لوگوں کو اور ابو امامہ اور اس کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا، وہ لوگ آ گئے اور انھوں نے کہا: آپ دونوں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں، پس وہ داخل ہوئے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ نور اور حسن والا ہو، اس دن کی بہ نسبت، جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور چونکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے موقع پر بھی مدینہ میں موجود تھا، اس لیے میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ اندھیرے اور قباحت والا ہو، اس دن سے جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی۔

10622

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10622

Sahih

۔ (۱۰۶۲۲)۔ عَنْہ اَیْضًا قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ لَعَبَتِ الْحَبَشَۃُ لِقُدُوْمِہِ بِحِرَا بِھِمْ فَرْحًا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے حبشی لوگ جنگی آلات کے ساتھ کھیلے۔

10623

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10623

Sahih

۔ (۱۰۶۲۳)۔ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَحَرُوْا جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً وَقَالَ مَرَّۃً: نَحَرْتُ جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۲۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے اونٹ یا گائے ذبح کی۔

10624

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10624

Sahih

۔ (۱۰۶۲۴)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: اِنِّیْ لَاَسْعٰی فِی الْغِلْمَانِ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا، ثُمَّّ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا ، قَالَ: حَتّٰی جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ أَبُوْ بَکْرٍ فَکُنَّا فِیْ بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لِیُؤَذِّنَ بِھِمَا الْاَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَھُمَا زُھَائَ خَمْسِمِائَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّی اِنْتَھُوْ اِلَیْھِمَا فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: اِنْطَلِقَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ بَیْنَ أَظْھُرِھِمْ فَخَرَجَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ حَتّٰی اِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُیُوْتِیَتَرَائَیْنَہُیَقُلْنَ: اَیُّھُمْ ھُوَ؟ اَیُّھُمْ ھُوَ؟ قَالَ: رَأَیْنَا مَنْظَرًا مُشْبِھًا بِہٖیَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہُیَوْمَ دَخَلَ عَلَیْنَا وَیَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ اَرَ یَوْمَیْنِ مُشْبِھًا بِھِمَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں میں دوڑ کر آتا اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں، پس میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی شخص نظر نہ آتا، پھر جب بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں تو میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی چیز نظر نہ آتی، بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم اس وقت مدینہ کے بعض حرّوں میں تھے، پھر ایک آدمی نے ہمیں بھیجا تاکہ انصاریوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بتایا جائے، پس تقریباً پانچ سو انصاری آئے اور ان دو ہستیوںکے پاس پہنچ گئے اور کہا: تم دونوں امن و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھو، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی دونوں مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے، اُدھر سے اہل مدینہ نکل پڑے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کے چھتوں پر چڑھ گئیں اور کہنے لگیں: ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ہم نے اس دن ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (مسرت و شادمانی میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تھے، میں نے وہ دن بھی دیکھا تھا، اور جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی، پس اس دن بھی میں نے ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (غم و حزن میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔

10625

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10625

Sahih

۔ (۱۰۶۲۵)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ اِقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ أَیُّھُمْیَأْوِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَعَھُمْ أَبُوْ أَیُّوْبَ فَآوٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ اِذَا اُھْدِیَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَعَامٌ اُھْدِیَ لِأَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ: فَدَخَلَ أَبُوْ أَیُّوْبَیَوْمًا فَاِذَا قَصْعَۃٌ فِیْھَا بَصَلٌ فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: أَرْسَلَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبُوْ أَیُّوْبَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَنَعَکَ مِنْ ھٰذِہِ الْقَصْعَۃِ قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیْھَا بَصَلًا۔)) قَالَ: وَلَا یَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ؟ قَالَ: ((بَلٰی فَکُلُوْہُ وَلٰکِنْ یَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَاکُمْ)) وَقَالَ حَیْوَۃُ: ((اِنَّہُیَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَا کُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاریوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے پہلے جگہ دے گا، قرعہ میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام نکلا، پس انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانے کا ہدیہ پیش کیا جاتا تھا تو سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی ہدیہ دیا جاتا تھا، ایک دن جب سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اندر داخل ہوئے تو ایک پیالے میں پیاز ڈالا ہوا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس پیالے سے کیوں نہیں کھایا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں پیاز دیکھا ہے۔ میں نے کہا: کیایہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اس کو کھا سکتے ہو، بس میرے پاس (وحی اور فرشتوں کی صورت میں) وہ کچھ آتا ہے، جو تمہارے پاس نہیں آتا۔

10626

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10626

Sahih

۔ (۱۰۶۲۶)۔ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلٰی أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ عَلَیْہِ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْفَلَ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ فِی الْعُلُوِّ، فَانْتَبَہَ أَبُوْ أَیُّوْبَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ: نَمْشِیْ فَوْقَ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَحََوَّلَ فَبَاتُوْا فِیْ جَانِبٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسُّفْلُ أَرْفَقُ بِیْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: لَا أَعْلُو سَقِیْفَۃً أَنْتَ تَحْتَھَا فَتَحَوَّلَ أَبُوْ اَیُّوْبَ فِیْ السُّفْلِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعُلُوِّ، فَکَانَ یَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ فَاِذَا رُدَّ اِلَیْہِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَأْکُلُ مِنْ حَیْثُ أَثَرَ أَصَابِعُہُ، نَصْنَعُ ذَاتَ یَوْمٍ طَعَاماً فِیِْہِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِہٖاِلَیْہِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ لَمْ یَأْکُلْ فَصَعِدَ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَ حَرَامٌ ھُوَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَکْرَھُہُ۔)) قَالَ: اِنِّیْ أَکْرَہُ مَا تَکَرَہُ أَوْ مَاکَرِھْتَہُ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْتٰی۔ (مسند احمد: ۲۳۹۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔