Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 17 · Chapter 162

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان

9 hadiths in this chapter

883

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #883

Sahih

۔ (۸۸۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: یَکْفِیْکَ ثَـلَاثَ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَکُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنِّی رَجُلٌ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَکْثَرَ شَعْرًا مِنْکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔

884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #884

Sahih

۔ (۸۸۴)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَۃَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَہَا أَخُوہَا عَنِ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْ بِاِنَائٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلٰی رَأْسِہَا ثَلَاثًا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا الْحِجَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓ کا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔

885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #885

Sahih

۔ (۸۸۵)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْ رَأْسِیْ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا، قَالَ: اِنَّ شَعْرِیْ کَثِیْرٌ، قَالَ: کَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکْثَرَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔

886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #886

Sahih

۔ (۸۸۶)۔عَنْ جَمِیْعِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّیْ وَخَالَتِیْ عَلٰی عَائِشَۃَؓ فَسَأَلَتْہَا اِحْدَاہُمَا: کَیْفَ کُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِیْضُ عَلٰی رُؤُوْسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔

887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #887

Zaeef

۔ (۸۸۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِیْ اِجْمَارًا شَدِیْدًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلٰی کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً!؟)) (مسند أحمد: ۲۵۳۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟

888

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #888

Zaeef

۔ (۸۸۸)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا مَائٌ فَعَلَ اللّٰہُ بِہٖ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ عَلِیٌّ ؓ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعْرِیْ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا تَرَوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔

889

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #889

Sahih

۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔

890

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #890

Sahih

۔ (۸۹۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجْنَ مَعَہُ عَلَیْہِنَّ الضِمَادُ یَغْتَسِلْنَ فِیْہِ وَیَعْرَقْنَ لَا یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرِمَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔

891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #891

Sahih

۔ (۸۹۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، ہُوَ یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، اَع فَـلَا یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِیْدُ عَلٰی أَنْ أُفْرِغَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثَ اِفْرَاغَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔