Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2028

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان

5 hadiths in this chapter

10365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10365

Sahih

۔ (۱۰۳۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ رَجُلٌ مِنَ الْیَھُوْدِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِیْ اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِیْنَ، وَ قَالَ الْیَھُوْدِیُّ: وَ الَّذِی اصْطَفَی مُوْسٰی عَلَی الْعَالَمِیْنَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَیْنَ الْیَھُوْدِیِّ، فَاَتَی الْیَھُوْدِیُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَ بِذٰلِکَ، فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہُ فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُخَیِّرُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَاِنَّ النَّاسَ یَصْعَقُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُفِیْقُ فَاَجِدُ مُوْسٰی مُمْسِکًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَمَا اَدْرِیْ اَکَانَ فِیْمَنْ صَعِقَ فَاَفَاقَ قَبْلِیْ اَمْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔

10366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10366

Sahih

۔ (۱۰۳۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُخَیِّرُوْا بَیْنَ الْاَنْبِیَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم انبیائے کرام کے ما بین ترجیح نہ دیا کرو۔

10367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10367

Sahih

۔ (۱۰۳۶۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ قَسْمًا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنَّ ھٰذِہِ لَقِسْمَۃٌ مَا اُرِیْدَ بِھَا وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَاعَدُوَّ اللّٰہِ! اَمَا لَاُخْبِرَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا قُلْتَ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْمَرَّ وَجْھُہُ، قَالَ: ((ثُمَّ قَالَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مُوْسٰی فَقَدْ اُوْذِیَ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن مال تقسیم کیا، ایک انصاری نے کہا: اس تقسیم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں ہے، میںنے کہا: اے اللہ کے دشمن! میں ضرور ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔

10368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10368

Sahih

۔ (۱۰۳۶۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْ حَدِیْثِ الْاِسْرَائِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ، فَقِیْلَ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ، فَفَتَحَ لَنَا فَاِذَا اَنَا بِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا بِخَیْرٍ (وَفِیْہِ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیَّ مَا اَوْحٰی، وَفَرَضَ عَلَیَّ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَمْسِیْنَ صَلاۃً، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتّٰی انْتَھَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلٰی اُمَّتِکَ قَالَ قُلْتُ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فِیْ کِلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ قَالَ ارْجِعْ اِلَی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ، فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ فَاِنِّیْقَدْ بَلَوْتُ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَخَبَرْتُھُمْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَقُلْتُ: اَیْ رَبِّ! خَفِّفْ عَنْ اُمَّتِیْ فَحَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ: مَافَعَلْتَ؟ قُلْتُ: حَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِاُمَّتِکَ، قَالَ: فَلَمْ اَزَلْ اَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّیْ وَبَیْنَ مُوْسٰی وَ یَحُطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، حَتّٰی قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھِیَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ بِکُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرٌ فَتِلْکَ خَمْسُوْنَ صَلَاۃً، وَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَفْعَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ عَشْرًا، وَ مَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمََلْھَا لَمْ تُکْتَبْ شَیْئًا، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً، فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَھَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَاَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِاُمَّتِکَ فَاِنَّ اُمَّتِکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَقَدْ رَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ حَتّٰی لَقَدْ اسْتَحْیَیْتُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جبریل علیہ السلام نے کھولنے کا مطالبہ کیا، پس کہا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پھر کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا جا چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کی طرف طرف پیغام بھیجا گیا ہے، پس اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا، اچانک میں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی، ……، پس اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی، وہ اس نے کی اور مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کیں، واپسی پر جب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور تخفیف کا سوال کریں، آپ کی امت اتنینمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں بنو اسرائیل کو آزما چکا ہو، پس میں اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت پر تخفیف کیجئے، پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے پوچھا: کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: جی پانچ نمازیں کم کر دی ہیں، انھوں نے کہا: آپ کی امت (۴۵) نمازوں کے عمل کی طاقت نہیں رکھتی، لہٰذا لوٹ جائیں اور اپنے رب سے امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں اپنے ربّ اور موسی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں کم کرتے رہے، یہاں تک کہ اس نے کہا: اے محمد! ایک دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس گنا ملے گا، اس لیے گویایہ پچاس نمازیں ہیں، کیونکہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس کو عملاً سر انجام نہیں دیا تو یہ بھی اس کے لیے نیکی ہے، اور جس نے برائی کا ارادہ کیا، لیکن عملاً اس کا ارتکاب نہیں کیا تو اس کے لیے کوئی برائی نہیں لکھی جائے گی، اور جس نے اس کا ارتکاب کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جائے گی، پس میں نیچے اترا اور موسی علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان کو ساری تفصیل بتائی، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف پھر لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، کیونکہ تیری امت اس عمل کی بھی طاقت نہیں رکھتی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اتنی بار اپنے ربّ کے پاس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔

10369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10369

Sahih

۔ (۱۰۳۶۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَ مَعَہُ الرَّھْطُ وَالنَّبِیَّ وَ مَعَہُ الرَّجُلُ وَ الرَّجُلَیْنِ، وَ النَّبِیَّ لَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، اِذْ رُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ، فَقُلْتُ: ھٰذِہِ اُمَّتِیْ؟ فَقِیْلَ: ھٰذَا مُوْسٰی وَ قَوْمُہُ، وَ لٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ، فَاِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، ثُمَّ قِیْلَ: انْظُرْ اِلٰی ھٰذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَاِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، فَقِیْلَ: ھٰذِہِ اُمَّتُکَ وَ مَعَھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَ لَا عَذَابٍ۔)) فَقَالَ بَعْضُھُمُ: لَعَلَّھُمُ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ قَالَ بَعْضُھُمْ: لَعَلَّھُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِیْ الْاِسْلَامِ وَ لَمْ یُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا قَطُّ، وَ ذَکَرُوْا اَشْیَائً، فَخَرَجَ اِلَیْھِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ تَخُوْضُوْنِ فِیْہِ؟)) فَاَخْبَرُوْہُ بِمَقَالَتِھِمْ،فَقَالَ: ((ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ، وَ لَا یَسْتَرْقُوْنَ، و لَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اَنَا مِنْھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَنْتَ مِنْھُمْ۔)) ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ: اَنَا مِنْھُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَبَقَکَ بِھَا عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت، کسی کے ساتھ ایک فرد، کسی کے ساتھ دو افراد اور کسی کے ساتھ کوئی آدمی نہیں دیکھا، اچانک مجھے ایک بڑا لشکر دکھایا گیا، میں نے کہا: یہمیری امت ہے؟ جواب دیا گیا: یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، اب آپ افق کی طرف دیکھیں، اُدھر ایک بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: اب آپ اس طرف دیکھیں، اُدھر بھی بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں، جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے، کسی نے کہا: ایسے لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا، دوسرے صحابہ نے مزید آراء کا ذکر بھی کیا، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے؟ انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی باتوں کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور وہ صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔