Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2027

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر

2 hadiths in this chapter

10363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10363

Sahih

۔ (۱۰۳۶۳)۔ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِیْ وَالِدِیْ مُحَمَّدٌ عَنْ اَبِیْہِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَمَلَاَ عَیْنَیْہِ مِنِّیْ ثُمَّ لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ فَاَتَیْتُ اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! ھَلْ حَدَثَ فِیْ الْاِسْلَامِ شَیْئٌ؟ مَرَّتَیْنِ، قَالَ: لَا، وَ مَا ذَاکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا،اِلَّا اِنِّیْ مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِیْ الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَمَلَاَ عَیْنَیْہِ مِنِّیْ ثُمَّ لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ، قَالَ: فَاَرْسَلَ عُمَرُ اِلَی عُثْمَانَ فَدَعَاہُ فَقَالَ: مَا مَنَعَکَ اَنْ لَّا تَکُوْنَ رَدَدْتَ عَلٰی اَخِیْکَ السَّلاَمَ؟ قَالَ عُثْمَانُ: مَا فَعَلْتُ، قَالَ سَعْدٌ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَتّٰی حَلَفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ اِنَّ عُثْمَانَ ذَکَرَ فَقَالَ: بَلٰی وَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ، اِنَّکَ مَرَرَتَ بِیْ آنِفًا وَ اَنَا اُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِکَلِمَۃٍ سَمِعْتُھَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا وَ اللّٰہِ! مَا ذَکَرْتُھَا قَطُّ اِلَّا تَغَشَّی بَصَرِیْ وَ قَلْبِیْ غِشَاوَۃٌ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فَاَنَا اُنَبِّئُکَ بِھَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ لَنَا اَوَّلَ دَعْوَۃٍ ثُمَّ جَائَ اَعْرَابِیٌّ فَشَغَلَہُ حَتّٰی قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتْبَعْتُہُ فَلَمَّا اَشْفَقْتُ اَنْ یَسْبِقَنِیْ اِلٰی مَنْزِلِہِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِی الْاَرْضَ فَالْتَفَتَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا اَبُوْ اِسْحَاقَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَمَہْ!)) قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ! اِلَّا اَنَّکَ ذَکَرْتَ لَنَا اَوَّلَ دَعْوَۃٍ ثُمَّ جَائَ ھٰذَا الْاَعْرَابِیُّ فَشَغَلَکَ، قَالَ: ((نَعَمْ، دَعْوَۃُ ذِی النُّوْنِ اِذْ ھُوَ فِیْ بَطْنِ الْحُوْتِ {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} فَاِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِھَا مُسْلِمٌ رَبَّہُ فِیْ شَیْئٍ اِلَّا اسْتَجَابَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اور میں نے ان کو سلام کہا، لیکن انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پس میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کوئی چیز نئی ظاہر ہو گئی ہے؟ دو ددفعہ کہا، انھوں نے کہا: جی نہیں، بھلا بات کون سی ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی بات نہیں، بس اتنا ضرور ہوا ہے کہ میں ابھی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا، ان کو سلام کہا، انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا، لیکن میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے روک دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ایسے ہوا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے بھی قسم اٹھا دی اور میں نے بھی قسم کھا لی، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ابھی تم میرے پاس سے گزرے تھے اور میں اپنے دل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ایکحدیثیاد کر رہا تھا، نہیں، اللہ کی قسم، میں جب بھی اس حدیث کو یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور دل پر ایک پردہ چڑھ جاتا ہے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی تم کو ایک بات بتلاتا ہوں، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں یہ بات بتلانا چاہی کہ پہلی دعا، پھر ایک بدّو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مصروف کر دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ہو لیا، جب مجھے یہ شبہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کی طرف مجھ سے آگے نکل جائیں گے، تو میں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کوئی بات نہیں، بس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذکر کیا تھا کہ پہلی دعا، پھر یہ بدّو آ گیا اور اس نے آپ کو مصروف کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مچھلی والے کیدعا ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انھوں نے یہ دعا کی تھی: {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان جس چیز کے لیے ان الفاظ کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔

10364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10364

Sahih

۔ (۱۰۳۶۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِثَنِیَّۃِ ھَرْشَائَ حِیْنَ حَجَّ، قَالَ: ((اَیُّ ثَنِیَّۃٍ ھٰذِہِ؟)) قَالُوْا: ثَنِیَّۃُ ھَرْشَائَ، قَالَ: ((کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰییُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَۃٍ حَمْرَائَ جَعْدَۃٍ، عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ صُوْفٍ، خِطَامُ نَاقَتِہِ خُلْبَۃٌ (قَالَ: یَعْنِیْ لِیْفًا) وَ ھُوَ یُلَبِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔