Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2019

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا

6 hadiths in this chapter

10343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10343

Sahih

۔ (۱۰۳۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ، ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ اَیُوْبَ وَکَثِیْرِ بْنِ کَثِیْرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ اَبِیْ وَدَاعَۃَیَزِیْدُ اَحَدُھُمَا عَلَی الْآخَرِ، عَنْ سَعیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اَوَّلُ مَا اتَّخَذَتِ النِّسَائُ الْمِنْطَقَ مِنْ قَبْلِ اُمِّ اِسْمَاعِیْلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعْفِیَ اَثَرَھَا عَلٰی سَارَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَحِمَ اللّٰہُ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ، اَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاَلْفٰی ذٰلِکَ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ وَھِیَ تُحِبُّ الْاُنْسَ فَنَزَلُوْا، وَ اَرْسَلُوْا اِلٰی اَھْلِیْھم فَنَزَلُوْا مَعَھُمْ۔)) و قَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ: ((فَھَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْوَادِیَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِھَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْیَ الْاِنْسَانِ الْمَجْھُوْدِ حَتّٰی جَاوَزَتِ الْوَادِیَ، ثُمَّ اَتَتِ الْمَرْوَۃَ فَقَامَتْ عَلَیْھَا وَ َنظَرَتْ ھَلْ تَرٰی اَحَدًا فَلَمْ تَرَ اَحَدًا فَفَعَلَتْ ذٰلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِذٰلِکَ سَعَی النَّاسُ بَیْنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۳۲۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: سب سے پہلے جس خاتون نے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی استعمال کی، وہ ام اسماعیل تھیں، انھوں نے سیدہ سارہ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ پر اس کے نشان کو چھپانے کے لیے پیٹی کا اہتمام کیا، پھر انھوں نے بقیہ حدیث ذکر کی اور کہا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرتے، اگر انھوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا ، ایک روایت میں ہے: اگر وہ زمزم سے چلو نہ بھرتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز نے ام اسماعیل کو پا لیا کہ وہ مانوسیت کو پسند کرتی تھیں، پس وہ وہاں اتر پڑے اور انھوں نے اپنے اہل کی طرف بھیپیغام بھیجا، سو وہ بھی وہاں آ کر ٹھہر گئے، … …، پس سیدہ ہاجر ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ صفا سے اتریں،یہاں تک کہ وادی میں پہنچیں اور اپنی قمیص کا کنارہ اٹھایا، پھر مشقت میں پڑے ہوئے انسان کی طرح دوڑیں،یہاں تک کہ وادی کو عبور کر لیا، پھر وہ مروہ پر آئیں اور اس پر کھڑے ہو کر دیکھا، تاکہ ان کو کوئی آدمی نظر آجائے، لیکن وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں، پس انھوں نے سات دفعہ ایسے ہی کیا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے لوگ صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں۔

10344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10344

Sahih

۔ (۱۰۳۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ اِبْرَاھِیْمَ جَائَ بِاِسْمَاعِیْلَ عَلَیْھِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ وَھَاجَرَ فَوَضَعَھَا بِمَکَّۃَ فِیْ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ ثُمَّ جَائَ تْ مِنَ الْمَرْوَۃِ اِلٰی اِسْمَاعِیْلَ وَقَدْ نَبَعَتِ الْعَیْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَیْنَ بِیَدِھَا ھٰکَذَا حَتَّی اجْتَمَعَ الْمَائُ مِنْ شَقَّۃٍ ثُمَّ تَاْخُذُ بِقَدَحِھَا فِیْ سِقَائِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ تَرَکَتْھَا لَکَانَتْ عَیْنًا سَائِحَۃً تَجْرِیْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور ہاجر ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو لے کر آئے اور ان کو مکہ میں زمزم کے مقام پر ٹھہرایا، … …، پھر جب وہ ہاجرہ مروہ سے اسماعیل کے پاس گئیں، تو چشمہ ابل رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کر کے چشمہ کی جگہ پر زمین کھودنے لگ گئیں،یہاں تک کہ اس گڑھے میںپانی جمع ہو گیا اور وہ پیالے کی مدد سے اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگ گئیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو چھوڑ دیتیں تو وہ قیامت تک بہنے والا چشمہ ہوتا۔

10345

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10345

Sahih

۔ (۱۰۳۴۵)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، ثَنَا اَیُّوْبُ قَالَ: اُنْبِئْتُ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَائَ الْمَلَکُ بِھَا حَتَّی انْتَھٰی اِلٰی مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِہٖفَفَارَتْعَیْنًا فَعَجِلَتِ الْاِنْسَانَۃُ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِیْ شَنَّتِھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَحِمَ اللّٰہُ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ لَوْ لَا اَنَّھَا عَجِلَتْ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا۔)) (مسند احمد: ۳۳۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پھر فرشتہ سیدہ ہاجرہ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو لے کر آیا،یہاں تک کہ جب زمزم والی جگہ پر پہنچا تو وہاں اپنی ایڑھی ماری، پس اس جگہ سے چشمہ ابل پڑا، اب اس خاتون نے پیالے کی مدد سے پانی کو اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر انھوں نے جلدی نہ کی ہوتی تو زمزم جاری چشمہ ہوتا۔

10346

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10346

Sahih

۔ (۱۰۳۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ اَخْبَرَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَمْ تَرَیْ اِلٰی قَوْمِکِ حِیْنَ بَنَوُا الْکَعْبَۃَ اقْتَصَرُوْا عَنْ قَوْاعِدَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَـلَا تَرُدُّھَا عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ؟، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ۔)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَاللّٰہ!ِ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ سَمِعْتْ ذَالِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اُرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَرَکَ اِسْتَلَامَ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِیَلِیَانِ الْحِجْرَ اِلَّا اَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یُتَمَّمْ عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِرَادَۃَ اَنْیَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ کُلِّہِ مِنْ وَرَائِ قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا: اگر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔

10347

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10347

Sahih

۔ (۱۰۳۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِیْ الْاَرْضِ اَوَّلُ؟ قَالَ: ((اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((اَلْمَسْجِدُ الْاَقْصٰی۔)) قَالَ: قُلْتُ: کَمْ بَیْنَھُمَا؟ قَالَ: ((اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَیْنَمَا اَدْرَکَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّ فَھُوَ مَسْجِدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد سب سے پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد ِ حرام۔ میں نے کہا: پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے کہا: ان دو کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس برس۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پا لے تو وہیں نماز ادا کر لے، پس وہی مسجد ہو گی۔

10348

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10348

Sahih

۔ (۱۰۳۴۸)۔ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ، اُمِّ مَنْصُوْرٍ قَالَتْ: اَخْبَرَتْنِیْ اِمْرَاَۃٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ وَلَدَتْ عَامَّۃَ اَھْلِ دَارِنَا: اَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِلَی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ وَ قَالَ مَرَّۃً (یَعْنِیْ الرَّاوِیَ عَنْ صَفِیَّۃَ): اَنَّھَا سَاَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ: لِمَ دَعَاکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قَالَ لِیْ : ((کُنْتُ رَاَیْتُ قَرْنَیِ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلَتُ الْبَیْتَ فَنَسِیْتُ اَنْ آمُرَکَ تُخَمِّرُھُمَا فَخَمِّرْھُمَا، فَاِنَّہُ لَا یَنْبَغِیْ اَنْ یَکُوْنَ فِیْ الْبَیْتِ شَیْئٌیَشْغَلُ الْمُصَلِّیَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِیْ الْبَیْتِ حَتَّی اِحْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا۔ (مسند احمد: ۱۶۷۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ام منصور کہتی ہیں: بنو سلیم کی ایک خاتون، ہمارے گھر کی عام اولاد اسی سے تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کیوں بلایا تھا؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں نے بیت اللہ کے اندر دنبے کے سینگ دیکھے اور تجھے یہ حکم دینا بھول گیا کہ تو ان کو ڈھانپ دے، پس اب ان کو ڈھانپ دے، کیونکہ مناسب نہیں ہے کہ بیت اللہ میں ایسی چیز ہو، جو نمازی کو مشغول کر دے۔ امام سفیان نے کہا: دنبے کے وہ دونوں سینگ بیت اللہ میں موجود رہے، یہاں تک کہ جب بیت اللہ کو آگ لگ گئی تھی تو وہ بھی جل گئے تھے۔