Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2018

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان

1 hadith in this chapter

10342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10342

Sahih

۔ (۱۰۳۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَکْذِبُ اِبْرَاھِیْمُ اِلَّا ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ، قَوْلُہُ حِیْنَ دُعِیَ اِلٰی آلِھَتِھِمْ : {اِنِّیْ سَقِیْمٌ} وَ قَوْلُہُ: {فَعَلَہُ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا} وَقَوْلُہُ لِسَارَۃَ: اِنَّھَا اُخْتِیْ، قَالَ: وَدَخَلَ اِبْرَاھِیْمُ قَرْیَۃً فِیْھَا مَلِکٌ مِنَ الْمُلُوْکِ اَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَۃِ، فَقِیْلَ: دَخَلَ اِبْرَاھِیْمُ اللَّیْلَۃَ بِاِمْرَاَۃٍ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ الْمَلِکُ اَوِ الْجَبَّارُ: مَنْ ھٰذِہِ مَعَکَ؟ قَالَ: اُخْتِیْ قَالَ: اَرْسِلْ بِھَا، قَالَ: فَاَرْسَلَ بِھَا اِلَیْہِ قَالَ لَھَا: لَا تُکَذِّبِیْ قَوْلِیْ فَاِنِّیْ اَخْبَرْتُہُ اَنَّکِ اُخْتِیْ اِنْ عَلَی الْاَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُکِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَتْ اِلَیْہِ قَامَ اِلَیْھا، قَالَ: فَاَقْبَلَتْ تَوَضَّاُ وَتُصَلِّیْ وَتَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ آمَنْتُ بِکَ وَبِرَسُوْلِکَ وَاَحْصَنْتُ فَرْجِیْ اِلَّا عَلٰی زَوْجِیْ فَـلَا تُسَلِّطْ عَلَیَّ الْکَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتّٰی رَکَضَ بِرِجْلِہِ، قَالَ اَبُوْالزِّنَادِ: قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اِنْ یَمُتْیُقَلْ ھِیَ قَتَلَتْہُ، قَالَ: فَاُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ اِلَیْھا، فَقَامَتْ تَوَضَّاُ وَتُصَلِّیْ وَ تَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ آمَنْتُ بِکَ وَ بِرَسُوْلِکَ وَ اَحْصَنْتُ فَرْجِیْ اِلَّا عَلٰی زَوْجِیْ فَـلَا تُسَلِّطْ عَلَیَّ الْکَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتّٰی رَکَضَ بِرِجْلِہِ، قَالَ اَبُوْ الزِّنَادِ: قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ : عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَانھا قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اِنْ یَمُتْیُقَلْ اِنَّھَا قَتَلَتْہُ، قَالَ: فَاَرْسَلَ، فَقَالَ: فِیْ الثَّالِثَۃِ وَ الرَّابِعَۃِ مَا اَرْسَلْتُمْ اِلَیَّ اِلَّا شَیْطَانًا اِرْجَعُوْھَا اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ اَعْطُوْھَا ھَاجَرَ، قَالَ: فَرَجَعَتْ فَقَالَت لِاِبْرَاھِیْمَ: اَشَعَرْتَ اَنْ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، رَدَّ کَیْدَ الْکَافِرِ وَ اَخْدَمَ وَلِیْدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے تھے، (۱) جب ان کو ان کی قوم کے باطل معبودوں کی طرف بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں بیمار ہوں، (۲) انھوں نے بتوں کو توڑنے کے بعد کہا: یہ کام تو ان کے بڑے نے کیا ہے اور (۳) انھوں نے اپنی بیوی سیدہ سارہ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے بارے میں کہا: بیشک یہ تو میری بہن ہے، آخری بات کی تفصیل یہ ہے: ابراہیم علیہ السلام ایک بستی میں داخل ہوئے، اس میں ایک بادشاہ یا کوئی جابر حکمران تھا، اس کو بتلایا گیا کہ آج رات ابراہیم انتہائی خوبصورت عورت کے ساتھ ہماری بستی میں داخل ہوا ہے، اس نے آپ علیہ السلام کو بلا بھیجا اور پھر پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ آپ نے کہا: یہ میرے بہن ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بھیج، پس آپ نے ان کو اس طرف بھیجا اور کہا: میری بات کو جھوٹا نہ کرنا، میں اس کو بتلا چکا ہوں کہ تم میری بہن ہو (لہٰذا تم نے بھی اپنے آپ کو میری بہن ظاہر کرنا ہے)، کیونکہ زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مؤمن نہیں ہے، پس جب سیدہ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اس پر داخل ہوئیں تو وہ ان کی طرف اٹھا، انھوں نے وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ پس اس دعا کے اثر سے اس سے دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ پاؤں کو زمین پر مارنے لگ گیا،یہ صورتحال دیکھ کر سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مرگیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کر دیا ہے، پس اس کی وہ کیفیت چھٹ گئی اور وہ پھر ان کی طرف کھڑا ہوا، سیدہ نے اس بار پھر وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ اس بادشاہ کی پھر دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ زمین پر پاؤں مارنے لگا، سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کیا ہے، پس اس کیوہ کیفیت چھٹ گئی، اس نے تیسرییا چوتھی بار کہا: تم لوگوں نے تو میری طرف کوئی شیطان بھیجا ہے، اس کو ابراہیم کی طرف لوٹا دو اور اس کو ہاجر دے دو، پس وہ لوٹ آئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا: کیا آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے مکر کو ردّ کر دیا ہے اور اس نے خدمت کے لیے ایک لونڈی بھی دی ہے۔