Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 2001

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان

8 hadiths in this chapter

10292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10292

Sahih

۔ (۱۰۲۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ خَلْقَہُ، ثُمَّ جَعَلَھُمْ فِیْ ظُلْمَۃٍ ثُمَّ اَخَذَ مِنْ نُوْرِہِ مَاشَائَ، فَاَلْقَاہُ عَلَیْھِمْ فَاَصَابَ النُّوْرُ مَنْ شَائَ اَنْ یُصِیْبَہُ وَاَخْطَاَ مَنْ شَائَ، فَمَنْ اَصَابَہُ النُّوْرُ یَوْمَئِذٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَ مَنْ اَخْطَاَ یَوْمَئِذٍ ضَلَّ، فَلِذٰلِکَ قُلْتُ: جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا ھُوَ کَائِنٌ۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر ان کو اندھیرے میں رکھا اور اپنی مشیت کے مطابق اپنے نور میں سے کچھ حصہ لیا اور اس کو ان پر ڈال دیا، اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق وہ نور بعض افراد تک پہنچ گیا اور بعض تک نہ پہنچا، جس شخص کو اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے رہ گیا، وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں عبداللہ کہتا ہوں: جو کچھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہوچکا ہے۔

10293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10293

Sahih

۔ (۱۰۲۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَرْضِ، فَجَائَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْاَرْضِ جَائَ مِنْھُمُ الْاَبْیَضُ، وَالْاَحْمَرُ، وَالْاَسْوَدُ، وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالْخَبِیْثُ، وَالطَّیِّبُ، وَالسَّھْلُ، وَ الْحَزْنُ، وَ بَیْنَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوموسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ساری زمین سے ایک مٹھی بھری اور اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،یہی وجہ ہے کہ اولادِ آدم زمین کی مٹی کی نوعیت کے مطابق پیدا ہوئے ہیں،یعنی کوئی سفید ہے، کوئی سرخ ہے، کوئی سیاہ ہے اور کسی کی رنگتیں ان کے درمیان درمیان ہیں اور کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ مزاج ہے، کوئی نرم ہے، کوئی سخت ہے اور کوئی ان کے درمیان درمیان۔

10294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10294

Sahih

۔ (۱۰۲۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْھَا ائْتَلَفَ، وَ مَا تَنَاکَرَ مِنْھَا اخْتَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھاکیے گئے لشکر ہیں، جن جن کا وہاں تعارف ہوگیا، وہ مانوس ہوگئے اور جن کی آپس میں شناخت نہ ہو سکی، وہ مختلف ہو گئے۔

10295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10295

Sahih

۔ (۱۰۲۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ، طُوْلُہُ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَہُ، قَالَ لَہُ: اذْھَبْ فَسَلِّمْ عَلٰی اُوْلٰئِکَ النَّفَرِ، وَھُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ جُلُوْسٌ، وَاسْتَمِعْ مَا یُجِیْبُوْنَکَ، فَاِنَّھَا تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ ذُرِّیَّتِکَ، قَالَ: فَذَھَبَ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، فَقَالُوْا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ، فَزَادُوْا رَحْمَۃَ اللّٰہِ، قَالَ: فَکُلُّ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ آدَمَ وَطُوْلُہُ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا، فَلَمْ یَزَلْیَنْقُصُ الْخَلْقُ بَعْدُ حَتَّی الْآنَ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کی تو فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اُس جماعت کو سلام کہو اور غور سے سنو کہ وہ آپ کو جوابًا کیا کہتے ہیں، کیونکہ یہی (جملے) آپ اور آپ کی اولاد کا سلام ہوں گے۔ ( وہ گئے اور) کہا: السلام علیکم۔ انھوں نے جواب میں کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ یعنی ورحمۃ اللہ کے الفاظ زائد کہے۔ جب کوئی بھی آدمی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت (وجسامت) پر داخل ہو گا۔ لیکن (دنیا میں ولادتِ آدم سے) آج تک قد و قامت میں کمی آتی رہی۔

10296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10296

Sahih

۔ (۱۰۲۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ طُوْلُ آدَمَ سِتِّیْنَ ذِرَاعًا فِیْ سَبْعَۃِ اَذْرُعٍ عَرْضًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی سات ہاتھ تھی۔

10297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10297

Sahih

۔ (۱۰۲۹۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ ابْنِ آدَمَ تَاْکُلُہُ الْاَرْضُ اِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ فَاِنَّہُ مِنْہُ خُلِقَ، وَمِنْہُ یُرَکَّبُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے وجود کی ہر چیز کو زمین کھا جاتی ہے، ما سوائے عجب الذنب کے، اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا اور اسی سے اس کو دوبارہ ترکیب دیا جائے گا۔

10298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10298

Sahih

۔ (۱۰۲۹۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمَّا خَلَقَ عَزَّوَجَلَّ آدَمَ تَرَکَہَ مَا شَائَ اللّٰہُ اَنْ یَدَعَہُ، فَجَعَلَ اِبْلِیْسُیُطِیْفُ بِہٖیَنْظُرُ اِلَیْہِ، فَلَمَّا رَآہُ اَجْوَفَ عَرَفَ اَنَّہُ خَلْقٌ لَا یَتَمَالَکُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو جب تک چاہا(ان کے ڈھانچے کو) پڑا رہنے دیا، ابلیس گھوم کر اس کو دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ توپیٹ والا ہے یایہ اندر سے خالی ہے تو اس نے کہا: یہ ایسی مخلوق ہے،جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ یعنی یہ وجود اپنے آپ کو شہوات سے نہیں روک سکے گا، وسوسوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، نیز غصے پر بھی قابو نہیں پا سکے گا، الا من عصمہ اللہ۔ ابلیس کو کیسے اندازہ ہوا؟ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، معلوم نہیں کہ اُس دور کی صفات اور اس وقت کی مخلوقات کی اہلیتیں اور تجربات کیا کیا تھے۔

10299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10299

Sahih

۔ (۱۰۲۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، آخِرَ الْخَلْقِ فِیْ آخِرِ سَاعَۃٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَۃِ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی اللِّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے روز عصر کے بعد پیدا کیا،یہ آخری مخلوق تھی، جس کو جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آخری گھڑی عصر سے رات تک ہوتی ہے۔