Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 2000

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان

6 hadiths in this chapter

10286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10286

Sahih

۔ (۱۰۲۸۶)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، اَنَا دَاوٗدُوَابْنُاَبِیْ زَائِدَۃَ الْمَعْنِیَ قَالَا، ثَنَا دَاوٗدُعَنِالشَّعْبِیِّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُوْدٍ : ھَلْ صَحِبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ مِنْکُمْ اَحَدٌ؟ فَقَالَ: مَاصَحِبَہُ مِنَّا اَحَدٌ، وَلٰکِنْ قَدْ فَقَدْنَاہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقُلْنَا: اغْتِیْلَ؟ اسْتُطِیْرَ؟ مَافَعَلَ؟ قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِھَا قَوْمٌ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ وَجْہِ الْصُبْحِ اَوْ قَالَ: فِیْ السَّحْرِ اِذَا نَحْنُ بِہٖیَجِیْئَ مِنْ قَبْلِ حِرَائَ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَذَکَرُوْا الَّذِیْ کَانُوْا فِیْہِ، فَقَالَ: اِنَّہُ اَتَانِیْ دَاعِی الْجِنِّ فَاَتَیْتُھُمْ فَقَرَاْتُ عَلَیْھِمْ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَاَرَانِیْ آثَارَھُمْ وَآثَارَ نِیْرَانِھِمِ۔ قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِیُّ: سَاَلُوْہُ الزَّادَ (قَالَ ابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ: قَالَ عَامِرٌ: فَسَاَلُوْہُ لَیْلَتَـئِذٍ الزَّادَ) وَکَانُوْا مِنْ جِنِّ الْجَزِیْرَۃِ) فَقَالَ: ((کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِیَقَعُ فِیْ اَیْدِیْکُمْ اَوْفَرَ مَا کَانَ عَلَیْہِ لَحْمًا، وَکُلُّ بَعْرَۃٍ اَوْ رَوْثَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ، فَـلَا تَسْتَنْجُوْا بِھِمَا فَاِنَّھُمَا زَادُ اِخْوَانِکُمْ مِنََ الْجِنِّ۔)) (مسند احمد: ۴۱۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر خوب گوشت دار ہڈی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ لگے (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔

10287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10287

Zaeef

۔ (۱۰۲۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَاشَاْنُکَ؟ فَقَالَ: ((نُعِیَتْ اِلَیَّ نَفْسِیْیَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ!۔)) (مسند احمد: ۴۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں جنوں کے وفد والی رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس پلٹے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا سانس لیا، میں نے کہا: آپ کوکیا ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔

10288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10288

Zaeef

۔ (۱۰۲۸۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَہُ (اَیْ حَوْلَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ) فَکَانَ یَجِيْئُ اَحَدُھُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ، وَقَالَ لِیْ: ((لَا تَبْرَحْ مَکَانَکَ۔)) فَاَقْرَاَھُمْ کتَابَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ فَلَمَّا رَاَی الزُّطَّ قَالَ: کَاَنَّھُمْ ھٰؤُلَائِ، وَ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَمَعَکَ مَائٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((اَمَعَکَ نَبِیْذٌ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَتَوَضَّاَ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۴۳۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔

10289

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10289

Zaeef

۔ (۱۰۲۸۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بِتُّ اللَّیْلَۃَ اَقْرَاُ عَلَی الْجِنِّ رُفَقَائَ بِالْحَجُوْنِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس طرح رات گزاری کہ حجون میں جنوں کی جماعت پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔

10290

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10290

Zaeef

۔ (۱۰۲۹۰)۔ حَدَّثَنَا عَارِمٌ، وَعَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ: قَالَ اَبِیْ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْتَمِیْمَۃَ عَنْ عَمْروٍ لَعَلَّہُ اَنْ یَکُوْنَ قَدْ قَالَ: اَلْبِکَالِیُّیُحَدِّثُہُ عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ عَمْروٌ: اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ قَالَ: اِسْتَبْعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی اَتَیْتُ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا فَخَطَّ لِیْ خِطَّۃً فَقَالَ لِیْ: کُنْ بَیْنْ ظَھْرَیْ ھٰذِہِ لَا تَخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ اِنْ خَرَجْتَ ھَلَکْتَ، قَالَ: فَکُنْتُ فِیْھَا قَالَ: فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَذَفَۃً اَوْ اَبْعَدَ شَیْئًا اَوْ کَمَا قَالَ: ثُمَّ اِنَّہُ ذَکَرَ ھَنِیْنًا کَاَنَّھُمُ الزُّطُّ قَالَ عَفَّانُ (اَوْ کَمَا قَالَ عَفَّانُ): اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَیْسَ عَلَیْھِمْ ثِیَابٌ وَلَا اَرٰی سَوْآتِھِمْ طِوَالًا قَلِیْلٌ لَحْمُھُمْ، قَالَ: فَاَتَوْا فَجَعَلُوْا یَرْکَبُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَجَعَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُ عَلَیْھِمْ، قَالَ: وَجَعَلُوْا یَاْتُوْنِیْ فَیُخَیِّلُوْنَ حَوْلِیْ وَ یَعْتَرِضُوْنَ لِیْ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَاُرْعِبْتُ مِنْھُمْ رُعْبًا شَدِیْدًا، قَالَ: فَجَلَسْتُ (اَوْ کَمَا قَالَ) قَالَ: فَلَمَّا اِنْشَقَّ عُمُوْدُ الصُّبْحِ جَعَلُوْا یَذْھَبُوْنَ (اَوْ کَمَا قال) قَالَ: ثُمَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ثَقِیْلًا وَجِعًا اَوْ یَکَادُ اَنْ یَکُوْنَ وَجِعًا مِمَّا رَکِبُوْہُ، قَالَ: ((اِنِّیْ لَاَجِدُنِیْ ثَقِیْلًا)) اَوْ کَمَا قال، فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہَ فِیْ حِجْرِیْ (اَوْ کَمَا قال) ثُمَّ اِنَّ ھُنَیْئًا اَتَوْا، عَلَیْھِمْ ثِیَابٌ بِیْضٌ طِوَالٌ (اَوْ کَمَا قَالَ) وَقَدْ اَغْفٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَاُرْعِبْتُ اَشَدَّ مِمَّا اُرْعِبْتُ الْمَرَّۃَ الْاُوْلٰی قَالَ عَارِمٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: لَقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا الْعَبْدُ خَیْرًا، اَوْ کَمَا قَالُوْا، اِنَّ عَیْنَیْہِ نَائِمَتَانِ اَوْ قَالَ: عَیْنُہُ اَوْ کَمَا قَالُوْا، وَقَلْبُہُ یَقْظَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَارِمٌ وَعَفَّانٌ: قَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: ھَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ بِہٖ مَثَلًا اَوْ کَمَا قَالُوْا، قَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: اِضْرِبُوْا لَہُ مَثَلًا وَنُؤَوِّلُ نَحْنُ اَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُؤَوِّلُوْنَ اَنْتُمْ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: مَثَلُہُ کَمَثَلِ سَیِّدٍ ابْتَنٰی بُنْیَانًا حَصِیْنًا ثُمَّ اَرْسَلَ اِلَی النَّاسِ بِطَعَامٍ اَوْ کَمَا قَالَ، فَمَنْ لَمْ یَاْتِ طَعَامَہُ اَوْ قَالَ: لَمْ یَتْبَعْہُ عَذَّبَہُ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ کَمَا قَالُوْا، قَالَ الْآخَرُوْنَ: اَمَّا السَّیِّدُ فَھُوَ رَبُّ الْعَالَمِیْنْ، وَاَمَّا الْبُنْیَانُ فَھُوَ الْاِسْلَامُ، وَالطَّعَامُ الْجَنَّۃُ، وَھُوَ الدَّاعِیْ فَمَنِ اتَّبَعَہُ کَانَ فِی الْجَنَّۃِ، قَالَ عَارِمٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: اَوْ کَمَا قَالُوْا، وَمَنْ لَمْ یَتَّبِعْہُ عُذِّبَ اَوْ کَمَا قَالَ، ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسْتَیْقَظَ فَقَالَ: مَا رَاَیْتَیَا ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: رَاَیْتُ کَذَا وَکَذَا، فقَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَا خَفِیَ عَلَیَّ مِمَّا قَالُوْا شَیْئٌ، قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ)) اَوْ قَالَ: ((ھُمْ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ اَوْ کَمَا شَائَ اللّٰہُ ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کاتقاضا کیا، پس ہم چل پڑے، جب میں فلاں مقام پر پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے لکیر لگائی اور مجھے فرمایا: تو اس کے درمیان بیٹھ جا، تو نے اس سے باہر نہیں نکلنا، وگرنہ ہلاک ہو جائے گا۔پس میں اسی میں بیٹھا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کنکری کی پھینک پر یا اس سے کچھ زیادہ آگے چلے گئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان جنوں کا ذکر کیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ زُط ہیں، ایک راوی کہتا ہے: اگر اللہ نے چاہا تو (ان کے بارے میں میرایہ بیان درست ہو گا کہ) ان پر کپڑے نہیں تھے، لیکن ان کی شرمگاہیں بھی نظر نہ آئیں، وہ دراز قد اور کم گوشت تھے، پس وہ آپ پر سوار ہونا شروع ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے، وہ جن میرے پاس بھی آتے، دل میںمختلف خیال ڈالتے اور میرے سامنے پیش آتے، میں ان سے بڑا خوفزدہ ہو گیا، پس میں بیٹھ گیا، جب صبح کی روشنی پھوٹنے لگی تو وہ چلے جانے لگے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، آپ بہت تھکے ہوئے اور تکلیف میں تھے، یایوں کہیے کہ قریب تھا کہ آپ کوتکلیف شروع ہو جاتی،یہ سارا کچھ ان کے سوار ہونے کی وجہ سے تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک میری گودی میں رکھا، پھر کچھ افراد آ گئے، انھوں نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور دراز قد تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو گئے تھے، میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ گھبرا گیا تھا، ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: اس بندے یعنیآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خیر عطا کی گئی ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے، آؤ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی تاویل کرتے ہیں،یا ان میں سے بعض نے کہا: ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی تاویل کرو گے، پھر بعض نے بعض سے کہا: اس کی مثال اس سردار کی مثال کی طرح ہے،جس نے قلعہ تعمیر کیا اور پھر لوگوں کو کھانے کے لیے بلا بھیجا، جو کھانے کے لیے نہ آیا،یا اس کی بات نہ مانی، اس نے اس کو سخت سزا دی، دوسروں نے تاویل کرتے ہوئے کہا: سردار سے مراد ربّ العالمین، قلعہ سے مراد اسلام اور کھانے سے مراد جنت ہے اور داعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ہیں، جس نے آپ کی پیروی کی، وہ جنت میں ہو گا اور جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت نہ کی،اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہو گئے اور پوچھا: اے ابن ام عبد تو نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ کچھ دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ انھوں نے کہا، اس میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہے، یہ فرشتوں کا ایک گروہ تھا۔

10291

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10291

Zaeef

۔ (۱۰۲۹۱)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فلَمَّا کُنَّا بِالْعَرْجِ اِذَا نَحْنُ بِحَیَّۃٍ تَضْطَرِبُ فَلَمْ تَلْبَثْ اَنْ مَاتَتْ، فَاَخْرَجَ لَھَا رَجُلٌ خَرِقَۃً مِنْ عَیْبَتِہِ فَلَفَّھَا فِیْھَا وَدَفَنَھَا وَخَدَّ لَھَا فِیْ الْاَرْضِ، فَلَمَّا اَتَیْنَا مَکَّۃَ فَاِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِذَا وَقَفَ عَلَیْنَا شَخْصٌ فَقَالَ: اَیُّکُمْ صَاحِبُ عَمْروِ بْنِ جَابِرٍ؟ قُلْنَا: مَانَعْرِفُہُ، قَالَ: اَیُّکُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ؟ قَالُوْا: ھٰذَا، قَالَ: اِمَّا اَنَّہُ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا، اِمَّا اَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَۃِ مَوْتًا الّذِیْنَ اَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تھے۔