Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 1997

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان

8 hadiths in this chapter

10249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10249

Sahih

۔ (۱۰۲۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی غَیْمًا اِلَّا رَاَیْتُ فِیْ وَجْھِہِ الْھَیْجَ فَاِذَا اَمْطَرَتْ سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سکون میں آتے۔

10250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10250

Sahih

۔ (۱۰۲۵۰)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا رَاٰی مَخِیْلَۃً تَغَیَّرَ وَجَھُہُ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَاَقْبَلَ وَاَدْبَرَ، فَاِذَا اَمْطَرَتْ سُرِّیَ عَنْہُ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((مَا اَمِنْتُ اَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ اﷲُ : {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ} اِلٰی {رِیْحٍٍ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)

10251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10251

Sahih

۔ (۱۰۲۵۱)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَاٰی نَاشِئًا مِنْ اُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، تَرَکَ عَمَلَہُ، وَاِنْ کَانَ فِیْ صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ۔)) فَاِنْ کَشَفَ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَاِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔

10252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10252

Sahih

۔ (۱۰۲۵۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُوْنُ النَّاسُ مُجْدِبِیْنَ فَیَنْزِلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْھِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِہِ فَیُصْبِحُوْنَ مُشْرِکِیْنَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((یَقُوْلُوْنَ: مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔

10253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10253

Sahih

۔ (۱۰۲۵۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مُطِرْنَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَہُ حَتّٰی اَصَابَہُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟ قَالَ: ((لِاَنَّہُ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِرَبِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔

10254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10254

Sahih

۔ (۱۰۲۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا، وَ اَبُوْ طَلْحَۃَ صَائِمٌ فَجَعَلَ یَاْکُلُ مِنْہُ، قِیْلَ لَہُ: اَتَاْکُلُ مِنْہُ وَ اَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: اِنّمَا ھٰذَا بَرَکَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔

10255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10255

Zaeef

۔ (۱۰۲۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الشِّتَائُ رَبِیْعُ الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسم سرما، مؤمن کے لیے بہار ہے۔

10256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10256

Sahih

۔ (۱۰۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ السَّنَۃَ لَیْسَ بِاَنْ لَا یَکُوْنَ فِیْھَا مَطَرٌ، وَلٰکِنَّ السَّنَۃَ اَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَائُ وَلَا تُنْبِتَ الْاَرْضُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔