Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 1996

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان

8 hadiths in this chapter

10241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10241

Sahih

۔ (۱۰۲۴۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ، اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا اِلٰی جَنْبِ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فِیْ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَیْخٌ جَمِیْلٌ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ وَفِیْ اُذُنَیْہِ صَمَمٌ اَوْ قَالَ: وَقْرٌ، اَرْسَلَ اِلَیْہِ حُمَیْدٌ فَلَمَّا اَقْبَلَ قَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ! اَوْسِعْ لَہُ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ، فَاِنَّہُ قَدْ صَحِبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ الشَّیْخُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنْشِیئُ السَّحَابَ فَیَنْطِقُ اَحْسَنَ النُّطْقِ وَیَضْحَکُ اَحْسَنَ الضِّحْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعد کہتے ہیں: میں حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ کا گزر ہوا، ان کے کانوں میں بہرا پن تھا، جب حمید نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ متوجہ ہوئے، اِدھر حمید نے کہا: میرے بھتیجے! میرے اور اپنے درمیان ان کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں، اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے، پس وہ بہترین انداز میں بولتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے۔

10242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10242

Zaeef

۔ (۱۰۲۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو فرماتے: اے اللہ! نہ ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک کر اور نہ عذاب کے ساتھ ہمیں تباہ کر، اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت دے دے۔

10243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10243

Sahih

۔ (۱۰۲۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَقْبَلَتْ یَھُوْدٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالُوْا: یَا اَبَا الْقَاسِمِ! اِنَّا نَسْاَلُکَ عَنْ خَمْسَۃِ اَشْیَائٍ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ قَالُوْا: اَخْبِرْنَا مَا ھٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، اَوْ فِیْیَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ یَزْجُرُ بِہٖالسَّحَابَیَسُوْقُہُ حَیْثُ اَمَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ھٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔)) قَالُوْا: صَدَقْتَ۔(مسند احمد: ۲۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ اشیاء کے بارے میں سوال کریں گے، ……، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا: انھوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کڑک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو بادلوں کا نظام سپرد کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میںآگ کی ایک تلوار ہوتی ہے، وہ اس کے ذریعے بادلوں کو ڈانٹتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جو آواز سنتے ہیں،یہ کون سی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔

10244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10244

Zaeef

۔ (۱۰۲۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمُ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ وَ اَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّھَارِ، وَ لَمَا اَسَمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔ وَق۔الَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنّ۔ حُسْنُ الظَّنِّ بِاللّٰہِ مِنْ حُسَنِ عِبَادَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگرمیرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، دن کو سورج نکال دوں گا اور میں ان کو گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔

10245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10245

Sahih

۔ (۱۰۲۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الرِّیْحَ فَاِنَّھَا تَجِیْئُ بِالرَّحْمَۃِ وَالْعَذَابِ، وَلٰکِنْ سَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَتَعَوَّذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۹۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔

10246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10246

Sahih

۔ (۱۰۲۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: اَخَذَتِ النَّاسَ رِیْحٌ بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ، وَعَمَرُبْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌ فَاشْتَدَّتْ عَلَیْھِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَہُ: مَنْ یُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّیْحِ؟ فَلَمْ یُرْجِعُوْا اِلَیْہِ شَیْئًا، فَبَلَغَنِی الَّذِیْ سَاَلَ عَنْہُ عُمَرُ مِنْ ذٰلِکَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِیْ حَتّٰی اَدْرَکْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا اِمَیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اُخْبِرْتُ اَنَّکَ سَاَلْتَ عَنِ الرِّیْحِ، وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلرِّیْحُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ، تَاْتِیْ بِالرَّحْمَۃِ وَتَاْتِیْ بِالْعَذَابِ، فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَـلَا تَسُبُّوْھَا، وَسَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَاسْتَعِیْذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۷۶۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔

10247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10247

Sahih

۔ (۱۰۲۴۷)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ قَالَ: فَھَبَّتْ رِیْحٌ شَدِیْدَۃٌ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ، اِذَا ھُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِیْمٌ مِنْ عُظَمَائِ الْمُنَافِقِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔

10248

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10248

Sahih

۔ (۱۰۲۴۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا ھَبَّتِ الرِّیْحُ عُرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔