Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1972

تعریف اور مذمت کی کتاب

عمارتوں کی مذمت کا بیان

4 hadiths in this chapter

10086

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10086

Sahih

۔ (۱۰۰۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ فَرَاٰی قُبَّۃً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: ((لِمَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بَنَائٍ ھَدٌّ عَلٰی صَاحِبِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا مَاکَانَ فِیْ مَسْجِدٍ (اَوْ فِیْ بِنَائِ مَسْجِدِ،شَکَّ اَسْوَدُ) اَوْ اَوْ اَوْ۔)) ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ یَرَھَا فَقَالَ: ((مَافَعَلَتِ الْقُبَّۃُ؟)) قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَھَا مَا قُلْتَ فَھَدَمَھَا، قَالَ: فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نظر نہ آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔

10087

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10087

Sahih

۔ (۱۰۰۸۷)۔ عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ نَعُوْدُہُ ھُوَ یَبْنِیْ حَائِطًا لَہُ، فَقَالَ: ((الْمُسْلِمُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَا مَا یَجْعَلُ فِیْ ھٰذَا التُّرَابِ۔)) وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا فِیْ بَطْنِہِ، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھَانَا، اَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِہٖ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اَصْحَابَنَا الَّذِیْنَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْھُمُ الدُّنْیَا شَیْئًا، وَاِنَّا اَصَبْنَا بَعْدَھُمْ مَا لَا نَجِدُ لَہُ مَوْضِعًا اِلَّا التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قیس کہتے ہیں: ہم سیدنا خباب بن ارت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، جبکہ وہ ایک دیوار بنا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے، ماسوائے اس سرمائے کے، جس کو اس مٹی پر خرچ کرتا ہے۔سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے پیٹ پر سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا، پھر انھوں نے کہا: ہمارے بعض ساتھی ایسے تھے کہ وہ دنیا سے چلے گئے، لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی، جبکہ ہم نے تو ان کے بعد اتنا مال و متاع حاصل کر لیاہے کہ ہم اس کے لیے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں پاتے۔

10088

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10088

Sahih

۔ (۱۰۰۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّالَنَا، فَقَالَ: ((مَاھٰذَا؟)) قُلْنَا: خُصًّا لَنَا وَھٰی فَنَحْنُ نُصْلِحُہُ قَالَ: فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ الْاَمْرَ اَعْجَلُ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے، جبکہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کو مرمت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: جییہ ہماری چھونپڑی کمزور ہو گئی تھی، اس کی مرمت کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک موت کا معاملہ اس سے جلدی آنے والا ہے۔

10089

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10089

Zaeef

۔ (۱۰۰۸۹)۔ عَنْ اُمِّ مُسْلِمٍ الْاَشْجَعِیَّۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاھَا وَھِیَ فِیْ قُّبَّۃٍ، فَقَالَ: ((مَا اَحْسَنَھَا اِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْھَا مَنِیَّۃٌ۔)) قَالَتْ: فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُھَا۔ (مسند حمد: ۲۸۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام مسلم اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ اپنے ایک گنبد میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کتنا خوبصورت ہے، بشرطیکہ اس میں موت نہ ہوتی۔ وہ کہتی ہیں: پھر میں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔