Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1971

تعریف اور مذمت کی کتاب

اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا

6 hadiths in this chapter

10080

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10080

Sahih

۔ (۱۰۰۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ قَدْ اَلْقَاھَا اَھْلُھُا، فَقَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، جس کو اس کے مالکوں نے پھینک دیا تھا، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی اہمیت اس بکری کی اس کے مالکوں کے ہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت اس سے بھی کم ہے۔

10081

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10081

Sahih

۔ (۱۰۰۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَخْلَۃٍ جَرْبَائَ قَدْ اَخْرَجَھَا اَھْلُھَا فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہِ ھَیِّنَۃً عَلٰی اَھْلِھَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

10082

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10082

Sahih

۔ (۱۰۰۸۲)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَی الْعَالِیَۃَ فَمَرَّ بِالسُّوْقِ فَمَرَّ بِجَدْیٍ اَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہُ فَرَفَعَہُ ثُمَّ قَالَ: ((بِکَمْ تُحِبُّوْنَ اَنَّ ھٰذَا لَکُمْ۔)) قَالُوْا: مَانُحِبُّ اَنَّہُ لَنَا بِشَیْئٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ؟قَالَ: ((بِکَمْ تُحِبُّوْنَ اَنَّہُ لَکُمْ؟)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! لَوْکَانَحَیًّا لَکَانَ عَیْبًا فِیْہِ اَنَّہُ اَسَکُّ، فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالائی علاقے میں تشریف لائے اور وہاں چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے ایک مردار بچے کے پاس سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کو پکڑا اور بلند کیا اور پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض لینا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کے عوض کوئی چیز دینا بھی گوارا نہیں کریں گے، بھلا ہم نے اس کو کیا کرنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض خریدنا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو اس بنا پر معیوب سمجھا جاتا کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، اب تو سرے سے ہے ہی مردہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

10083

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10083

Sahih

۔ (۱۰۰۸۳)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((وَاللّٰہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ)! مَاالدُّنْیَا فِیْ الْآخِرَۃِ اِلَّا کَرَجُلٍ وَضَعَ اِصْبَعَہُ فِیْ الْیَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ اِلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَنْظُرْ بِمَا یَرْجِعُ اَشَارَ بِالسَّبَابَۃِ وَفِیْلَفْظٍ: یَعْنِیْ اَلَّتِیْ تَلِیْ الْاِبْھَامَ) قَالَ: وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: اَشْھَدُ اَنِّیْ کُنْتُ مَعَ الرَّکْبِ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوْا عَنْہُ فَاِذَا سَخْلَۃٌ مَطْرُوُحَۃٌ، فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہٰ ھَانَتْ عَلٰی اَھْلِھَا حِیْنَ اَلْقَوْھَا؟)) قَالُوْا: مِنْ ھَوَانِھَا عَلَیْھِمْ اَلْقَوْھَا، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

10084

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10084

Sahih

۔ (۱۰۰۸۴)۔ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ سُفْیَانَ الْکِلَابِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا ضَحَّاکُ! مَاطَعَامُکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ، قَالَ: ((ثُمَّ یَصِیْرُ اِلٰی مَاذَا؟)) قَالَ: اِلٰی مَا قَدْ عَلِمْتَ؟ قَالَ (النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): ((فَاِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ضَرَبَ مَایَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے ؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔

10085

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10085

Sahih

۔ (۱۰۰۸۵)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا، وَاِنْ قَزَّحَہُ وَمَلَّحَہُ فَانْظُرُوْا اِلٰی مَایَصِیْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے، ، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔