Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1964

تعریف اور مذمت کی کتاب

تعریف کی جائز صورتوں کا بیان

7 hadiths in this chapter

10027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10027

Sahih

۔ (۱۰۰۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَحَدَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلِذٰلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ، وَلَا اَحَدَ اَحَبُّ اِلَیْہِ الْمَدْحُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اس نے ظاہر ی اور باطنی ہر قسم کی بری چیزکو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت تعریف زیادہ پسند ہو۔

10028

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10028

Sahih

۔ (۱۰۰۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ مِثْلُہُ) وَزَادَ (وَلِذٰلِکَ مَدَحَ نَفْسَہُ) بَعْدَ قَوْلِہِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۴۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔

10029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10029

Zaeef

۔ (۱۰۰۲۹)۔ عَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَا اُنْشِدُکَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِھَا رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟ قَالَ: ((اَمَا اِنَّ رَبَّکَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْمَدْحَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔کے ذریعے میں نے اپنے ربّ کی تعریف کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تیرا ربّ تعریف کو پسند کرتا ہے۔

10030

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10030

Sahih

۔ (۱۰۰۳۰)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَدْ وَفَدَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ رَھْطٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ، قَالَ: فَاَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: اَنْتَ وَلِیُّنَا، واَنْتَ سَیِّدُنَا، وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا، (قَالَ یُوْنُسَ: وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا طَوْلًا) وَاَنْتَ اَفَضَلُ عَلَیْنَا فَضْلًا، وَاَنْتَ الْجَفْنَۃُ الْغرَّائُ، فَقَالَ: ((قُوْلُوْا قَوْلَـکُمْ وَلَا یَسْتَجْرِیَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ۔)) قَالَ: وَرُبَمَا قَالَ: وَلَا یَسْتَھْوِیَنَّکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔

10031

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10031

Sahih

۔ (۱۰۰۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَنْتَ سَیِّدُ قُرَیْشٍ، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ۔)) فَقَالَ: اَنْتَ اَفَضَلُھَا فِیْھَا قَوْلًا، وَاَعْظَمُھَا فِیْھَا طَوْلًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقُلْ اَحَدُکُمْ بِقَوْلِہِ وَلَا یَسْتَجِرَّنَّہُ الشَّیْطَانُ اَوِ الشَّیَاطِیْنُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔

10032

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10032

Sahih

۔ (۱۰۰۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ زُھَیْرِ نِ الثَّقَفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّبَائَۃِ اَوِ النَّبَاوَۃِ (شَکَّ نَافِعٌ) مِنَ الطَّائِفِ وَھُوَ یَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تُوْشِکُوْنَ اَنْ تَعْرِفُوْا اَھْلَ الْجَنّۃِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّيِّئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، وَاَنْتُمْ شُھْدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔

10033

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10033

Sahih

۔ (۱۰۰۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یَعْمَلُ الْعَمَلَ فَیَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، وَیُثْنُوْنَ عَلَیْہِ بِہٖفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ عَاجِلُ بَشْرَی الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔