Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 164 · Chapter 1963

زبان کی آفتوں کے مسائل

دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان

3 hadiths in this chapter

10024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10024

Zaeef

۔ (۱۰۰۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْرَہُ عَشْرَ خِلَالٍ، تَخَتُّمَ الذَّھَبِ وَجَرَّ الْاِزَارِ وَالصُّفْرَۃَیَعْنِیْ الْخَلُوْقَ، وَتَغْیِیْرَ الشَّیْبِ، قَالَ جَرِیْرٌ: اِنّمَا یَعْنِیْ بذٰلِکَ نَتْفَہُ، وَعَزْلَ الْمَائِ عَنْ مَحَلِّہِ وَالرُّقٰی اِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَفَسَادَ الصَّبِیِّ غَیْرَ مُحَرِّمِہِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالْزِیْنَۃِ لِغَیْرِ مَحَلِّھَا، وَالضَّرْبَ بِالْـکِعَابِ۔ (مسند احمد: ۴۱۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: (۱) سونے کی انگوٹھی، (۲) تہبند کو گھسیٹنا، (۳) صفرہ یعنی خلوق خوشبو، (۴) سفید بالوں کو تبدیل کر دینا،یعنی ان کو اکھاڑ دینا، (۵) مادۂ منویہ کو اس کے محل سے دور گرانا یعنی عزل کرنا، (۶) معوذات کے علاوہ دم کرنا، (۷) بچے میں فساد پیدا کرنا، لیکن اس کام کو حرام نہیں قرار دیا، (۸) تمیمے لٹکانا، (۹) بے محل موقع پر عورت کا زینت اختیار کرنا اور (۱۰) نرد کھیل کے مہرے مارنا۔

10025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10025

Zaeef

۔ (۱۰۰۲۵)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَوْصَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ، قَالَ: ((لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَاِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ، وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ اَنْ تَخْرُجَ مِنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ، وَلَا تَتْرُکَنَّ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَاِنَّہُ مَنْ تَرَکَ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ، وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَاِنَّہُ رَاْسُ کُلِّ فَاحِشَۃٍ، وَاِیَّاکَ وَالْمَعْصِیَۃَ فَاِنَّ بِالْمَعْصِیَۃِ حَلَّ سَخَطُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَاِیَّاکَ مِنَ الْفِرَارِ یَوْمَ الزَّحْفِ وَاِنْ ھَلَکَ النَّاسُ، وَاِذَا اَصَابَ النَّاسَ مُوْتَانٌ وَاَنْتَ فِیْھِمْ فَاثْبُتْ، وَاَنْفِقْ عَلٰی عَیْالِکَ مِنْ طَوْلِکَ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْھُمْ عَصَاکَ اَدَبًا، وَاَخِفْھُمْ فِیْ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دس امور کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تونے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرانا، اگرچہ تجھ کو قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے، ہر گز والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھ کو حکم دیں کہ تو اپنے اہل و مال سے نکل جائے، جان بوجھ کر ہر گز فرضی نماز کو ترک نہیں کرنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر فرضی نماز ترک کر دی، اللہ تعالیٰ کا ذمہ اس سے بری ہو جائے گا، تو نے ہر گز شراب نہیں پینی، کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی جڑ ہے، نافرمانی سے بچنا، کیونکہ نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے، لڑائی والے دن بھاگنے سے بچنا ہے، اگرچہ لوگ مر رہے ہوں، جب لوگ کثرت سے موت میں مبتلا ہو رہے ہوں، جبکہ تو ان میں موجود ہو تو تو نے ثابت قدم رہنا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب سکھانے کے لیے اپنی لاٹھی کو ان سے دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرا۔

10026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10026

Sahih

۔ (۱۰۰۲۶)۔ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ اَبِیْ الْحُصَیْنِ الْھَیْثَمِ بْنِ شُفَیٍّ اَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُوْلُ: خَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبٌ لِیْیُسَمَّی اَبَاعَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ اْلمَعَافِرِ لِیُصَلِّیَ بِاِیْلِیَائِ، وَکَانَ قَاصُّھُمْ رَجُلًا مِنَ الْاَزْدِ یُقَالُ لَہُ: اَبُوْ رَیْحَانَۃَ مِنَ الصَّحَابَۃِ، قَالَ اَبُوْ الْحُصَیْنِ: فَسَبَقَنِیْ صَاحِبی اِلَی المسجد، ثُمَّ اَدْرَکْتُہٗ فَجَلَسْتُ اِلٰی جَنْبِہٖ، فَسَاَلَنِیْ، ھَلْ اَدْرَکْتَ قِصَصَ اَبِیْ رَیْحَانَۃَ؟ فَقُلْتُ لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عَشْرَۃٍ، عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُکَامَعَـۃِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَیْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُکَامَعَۃِ الْمَرْاَۃِ الْمَرْاَۃَ بِغَیْرِ شِعَارٍ، وَاَنْ یَجْعَلَ الرَّجُلُ فِیْ اَسْفَلِ ثِیَابِہٖ حَرِیْرًا مِثْلَ الْاَعْلَامِ، وَاَنْ یَجْعَلَ عَلٰی مَنْـکِبَیْہِ مِثْلَ الْاَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّھْبٰی، وَرُکُوْبِ النُّمُوْرِ، وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ اِلَّا لِذِیْ سُلْطَانٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حصین ہیثم بن شُفَی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا ابو عامر نامی ایک ساتھی (بیت المقدس کے شہر) ایلیا میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، میرے ساتھی کا تعلق یمن کے مقام معافر سے تھا، ان کا واعظ ازدی تھا، اس کو ابو ریحانہ کہتے تھے اور وہ صحابی تھا، ابو حصین کہتے ہیں: میرا ساتھ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گیا، پھر جب میں مسجد میں پہنچا تو اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، انھوں نے مجھ سے سوال کیا: کیا تم نے سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قصے سنے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: میں نے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِن دس چیزوں سے منع کیا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، بغیر لباس کے مرد کا مرد کے ساتھ لیٹنا، اسی طرح بغیر لباس سے عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنا، مرد کا اپنے کپڑوں کے نچلی طرف اور کندھوں پر عجموں کی طرح (ریشم) ڈالنا، ڈاکہ زنی، چیتوں کے چمڑے کی زین وغیرہ بنا کر اس پر سوار ہونا اور حکومت والے بندے کے علاوہ دوسرے لوگوں کا انگوٹھی پہننا۔