Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1912

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان

6 hadiths in this chapter

9683

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9683

Sahih

۔ (۹۶۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، رَفَعَہُ سُفْیَانُ، وَوَقَفَہُ مِسْعَرٌ، قَالَ: ((مِنَ الْکَبَائِرِ اَنْ یَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَیَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: بھلا آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دیتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، وہ جواباً اس کے باپ کو برا بھلا کہتاہے، یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔سفیان راوی نے اس حدیث کو مرفوعاً اور مسعر نے موقوفاً بیان کیا ہے۔

9684

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9684

Sahih

۔ (۹۶۸۴)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْبَرَ الْکَبَائِرِ، عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قِیْلَ مَاعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔

9685

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9685

Sahih

۔ (۹۶۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْْ سَبَّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کو گالی دی، وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو برا بھلا کہا، اس پر لعنت کی گئی ہے۔

9686

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9686

Sahih

۔ (۹۶۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ، وَلَا الْمَنَّانُ عَطَائَ ہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا پاکیزہ باغ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

9687

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9687

Sahih

۔ (۹۶۸۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌ، وَلَامُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنے والا، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

9688

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9688

Zaeef

۔ (۹۶۸۸)۔ عَنْ مُعَاذِ ابْنِ اَنَسٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِبَادًا لَایُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْلَ لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ، رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِہِ، وَرَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَّرَاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذبن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین سے براء ت کا اظہار کرنے والا، ان سے بے رغبتی کرنے والا، اپنی اولاد سے اظہارِ براء ت کرنے والا اور وہ آدمی جس پر کسی قوم نے انعام کیا، لیکن وہ ان کے انعام کی ناشکری کرے اور ان سے براء ت کا اظہار کر دے۔