Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1911

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان

9 hadiths in this chapter

9674

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9674

Sahih

۔ (۹۶۷۴)۔ حَدَّثَنَا بَھْزٌوَعَفَّانُ، قَالَا: ثَنَا ھَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَائٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْرِقُ حَیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤُمِنٌ، وَلَا یَزْنِیْ حِیْنَیَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَغُلُّ حِیْنَیَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَنْتَھِبُ حِیْنَ یَنْتَھِبُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) وَقَالَ عَطَائٌ: ((وَلَا یَنْتَھِبُ نُھْبَۃً ذَاتَ شَرَفٍ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) قَالَ بَھْزٌ: فَقِیْلَ لَہُ: قَالَ: اِنَّہُ یُنْتَزَعُ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۸۹۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔

9675

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9675

Sahih

۔ (۹۶۷۵)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ اَوْ سُئِلَ عَنِ الکَبَائِرِ فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔))، وَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))، اَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))، قَالَ شُعْبَۃُ: اَکْبَرُ ظَنِّیْ اَنَّہٗقَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))(مسند احمد: ۱۲۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔

9676

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9676

Sahih

۔ (۹۶۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: وَذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) فَمَازَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔

9677

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9677

Sahih

۔ (۹۶۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اُنَیْسٍ اَلْجُھَنِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، والْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ، وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللّٰہِ یَمِیْنًا صَبْرًا فَاَدْخَلَ فِیْھَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، اِلَّاجَعَلَہُ اللّٰہُ نُکْتَۃً فِیْ قَلْبِہٖاِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔

9678

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9678

Sahih

۔ (۹۶۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَائَ یَعْبُدُ اللّٰہَ لَایُشْرِکُ بِہْ شَیْئًا ، وَیُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ، فَاِنَّ لَہُ الْجَنَّۃَ۔)) وَسَاَلُوْہُ مَا الْکَبَائِرَ؟ قَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَۃِ، وَفِرَارٌ یَوْمَ الزَّحْفِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔

9679

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9679

Sahih

۔ (۹۶۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا، وَھُوَ خَلَقَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مِنْ اَجْلِ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔)) قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِیْقَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ {وَالّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہً آخَرَ… اِلٰی قَوْلِہِ … وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا} [الفرقان: ۶۸] (مسند احمد: ۴۱۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)

9680

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9680

Sahih

۔ (۹۶۸۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْکَبَائِرُ، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، اَوْ قَتْلُ النَّفْسِ۔))، شُعْبَۃُ الشَّاکُ: ((الْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم۔ امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔

9681

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9681

Sahih

۔ (۹۶۸۱)۔ عَنْ سَلَمۃَ بْنِ قَیْسٍ الْاَشْجَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِ: ((اَلَا اِنّمَا ھُنَّ اَرْبَعٌ، اَنْ لَّا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیئاً ، وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوْا، وَلَا تَسْرِقُوْا۔)) قَالَ: فَمَا اَنَا بِاَشَحَّ عَلَیْھِنَّ مِنِّیْ اِذَا سَمِعْتُھُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔(مسند احمد: ۱۹۱۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے۔

9682

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9682

Sahih

۔ (۹۶۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ وَالْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِیَّاکُمْ الْفُحْشَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، وَاِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجَرُوْا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلُ اللہ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اِس نے ان کو بخل پر آمادہ کیا، پس انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو برائیوں کا حکم دیا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔