Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1871

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان

26 hadiths in this chapter

9392

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9392

Sahih

۔ (۹۳۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِعَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَائٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ اَھْلِ الدُّنْیَا، ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلاَّ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔

9393

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9393

Sahih

۔ (۹۳۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ ثَلاثَۃٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ، اِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ۔)) یَعْنِی الْوُرُوْدَ۔ (مسند احمد: ۷۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔

9394

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9394

Sahih

۔ (۹۳۹۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: جَائَ نِسْوَۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا نَقْدِرُ عَلَیْکَ فِیْ مَجْلِسِکَ مِنَ الرِّجَالِ، فَوَاعِدْنَا مِنْکَ یَوْمًا نَاْتِیْکَ فِیْہِ، قَالَ: ((مَوْعِدُکُنَّ بَیْتُ فُـلَانٍ۔)) وَاَتَاھُنَّ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ، وَلِذٰلِکَ الْمَوْعِدِ، قَالَ: فَکاَنَ مِمَّا قَالَ لَھُنَّ، یَعْنِیْ: ((مَا مِنْ اِمْرَاَۃٍ تُقَدِّمُ ثَلاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُھُنَّ اِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: اَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔

9395

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9395

Sahih

۔ (۹۳۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھُنَّ: ((مَا مِنْکُنَّ امْرَاَۃٌیَمُوْتُ لَھَا ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ اِلَّا کَانُوْا لَھَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: الخ (مسند احمد: ۱۱۳۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔

9396

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9396

Sahih

۔ (۹۳۹۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَاتَ لَہْ ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَھُمْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَا رسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اثْنَانِ۔)) قَالَ مَحْمُوْدٌ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: اَرَاکُمْ لَوْ قُلْتُمْ: وَوَاحِدًا لَقَالَ: وَوَاحِدًا قَالَ: وَاَنَا وَاللّٰہِ! اَظُنُّ ذٰلِکَ ۔(مسند احمد: ۱۴۳۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھی یہی ہے۔

9397

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9397

Zaeef

۔ (۹۳۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَـلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ کَانُوْا لَہُ حِصْنًا حَصِیْنًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔))، فَقَالَ اَبُوْذَرٍّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ اثْنَیْنِ؟قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔)) قَالَ: فَقَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ اَبُوْ الْمُنْذِرِ سَیِّدُ الْقُرَّائِ: لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ وَاحِدًا؟ قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا، فَقَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔

9398

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9398

Sahih

۔ (۹۳۹۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غَیَاثِ بْنِ طَلْقٍ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّخْعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَازُرْعَۃَ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصَبِیٍّ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَہُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَـلَاثَۃً، فَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِیْدٍ مِّنَ النَّارِ۔)) قَالَ حَفْصٌ: سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ سِتِّیْنَ سَنَۃً وَلَمْ اَبْلُغْ عَشَرَ سِنِیْنَ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا یَذْکُرُ ھٰذَا الْکَلامَ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَمَانِیْنَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷؁ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔

9399

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9399

Sahih

۔ (۹۳۹۹)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا امْرَاَۃٌ کَانَتْ تَاْتِیْنَایُقَالُ لَھَا: مَاوِیَّۃُ کَانَتْ تُرْزَأُ فِیْ وَلَدِھَا، فَاَتَتْ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنِ مَعْمَرٍ الْقُرَشِیَّ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ، اِنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنْ یُبْقِیَہُ لِیْ، فَقَدْ مَاتَ لِیْ قَبْلَہُ ثَـلَاثَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔))، قَالَتْ مَاوِیَّۃُ: قَالَ لِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَعْمَرٍ: اِسْمَعِیْیَامَاوِیَّۃُ! قَالَ مُحَمَّدٌ (یَعْنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ): فَخَرَجْتْ(مَاوِیَّۃُ) مِنْ عِنْدَ ابْنِ مَعْمَرٍ فَاَتَتْنَا، فَحَدَّثَتْنَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس کو زندہ سلامت رکھے ، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جب سے اسلام قبول کیا ، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ ‘‘اس نے کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ تو ( آگ سے بچنے کا ) بڑا مستحکم ذریعہ حفاظت ہے۔ ‘‘ ماویہ کہتی ہیں : مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا : اے ماویہ بات اچھی طرح سن (اوراس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ ) محمد بن سیرین کہتے ہیں : یہ عورت (ماویہ ) ابن معمر کےپاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی ۔

9400

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9400

Sahih

۔ (۹۴۰۰)۔ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنِ امْرَاَۃٍیُقَالُ لَھَا: رَجَائُ، قَالَتْ: کُنْتُ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ تْہُ امْرَاَۃٌ بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ لِیْ فِیْہِ بِالْبَرَکَۃِ، فَاِنَّہُ قَدْ تُوُفِّیَ لِیْ ثَلاثَۃٌ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔)) فَقَالَ لِیْ رَجُلٌ: اِسْمَعِیْیَارَجَائُ! مَایَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن سیرین، رجاءنامی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھی، ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ میرے لیے اس بچے میں برکت کی دعا کریں ، کیونکہ میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا : ’’کیا قبولیت اسلام کے بعد یہ بچے فوت ہوئے ہیں ؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو (جہنم سے بچنے کے لئے ) بڑی مضبوط ڈھال ہے۔ ‘‘ پس ایک آدمی نے مجھے کہا : اے رجاء سن، رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں ۔

9401

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9401

Sahih

۔ (۹۴۰۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السَّلَمِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَتَوَفّٰی لَہُ ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا تَلَقَّوْہُ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ اَلثَّمَانِیَۃِ مِنْ اَیُّہَا شَاءَ دَخَلَ۔))

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔

9402

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9402

Sahih

۔ (۹۴۰۲)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَبْسَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ صُلْبِہٖثَـلَاثَۃً لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اَوِ امْرَاۃٍ، فَھُمْ لَہُ سُتْرَۃٌ مِنَ النَّارِ۔))(مسند احمد: ۱۹۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔

9403

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9403

Sahih

۔ (۹۴۰۳)۔ وَعَنْ اُمِّ سُلَیْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث سنی ہے۔

9404

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9404

Sahih

۔ (۹۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سِنَانٍ، قَالَ: دَفَنْتُ اِبْنًا لِیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ الْقَبْرِ اِذَ اَخَذَ بِیَدِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ فَاَخْرَجَنِیْ، فَقَالَ: اَلا اُبَشِّرُکَ؟ قَالَ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الضِّحَاکُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَال اللّٰہُ تَعَالٰی: یَامَلَکَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِیْ؟، قَبَضْتَ قُرَّۃَ عَیْنِہِ، وَثَمَرَۃَ فُؤَادِہِ؟، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوْا لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَسَمُّوْہُ بَیْتَ الْحَمْدِ ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔

9405

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9405

Sahih

۔ (۹۴۰۵)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا الرَّقُوْبُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، فَقَالَ: ((الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الَّذِیْ لَہُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْھُمْ شَیْئًا۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الَّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْہُ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاالصُّرَعَۃُ؟)) قَالَ: قَالُوْا: الصَّرِیْعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرَعَۃِ، الصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرْعَۃِ، الرَّجُلُ یَغْضِبُ، فَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ، یَحْمَرُّ وَجَھُہُ، وَیَقْشَعِرُّ شَعْرُہُ، فَیَصْرَعُ غَضَبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارا پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔

9406

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9406

Sahih

۔ (۹۴۰۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَعُدُّوْنَ فِیْکُمُ الرَّقُوْبَ؟)) قَالَ: قُلْنَا الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، قَالَ: ((لا وَلٰکِنَّ الرَّقُوْبَ الَّذِیْ لَمْ یُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔

9407

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9407

Sahih

۔ (۹۴۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ اُمَّتِیْ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِاَبِیْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: ((وَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ یَا مُوَفَّقَۃُ!)) قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ اُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((فَاَنَا فَرَطُ اُمَّتِیْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔

9408

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9408

Sahih

۔ (۹۴۰۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیُتَوَفّٰی لَھُمَا ثَلاثَۃٌ اِلَّا اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔))، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوِاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔))، قَالُوْا: اَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ((اَوْ وَاحِدٌ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ، اِنَّ السِّقْطَ لَیَجُرُّ اُمَّہُ بِسَرَرِہِ اِلَی الْجَنَّۃِ اِذَا احْتَسَبَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔

9409

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9409

Zaeef

۔ (۹۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ اُقَیْشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوْتُ لَھُمَا اَرْبَعَۃُ اَوْلادٍ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا: یَارَسْوُلَ اللّٰہِ! وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: ((وَثَـلَاثَۃٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ قَالَ: ((وَاثْنَانِ، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُوْنَ اَحَدَ زَوَایَاھَا، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَدْخُلُ بِشَفَاعَتِہِ الْجَنَّۃَ اَکْثَرُ مِنْ مُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حارث بن اُقیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دوہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

9410

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9410

Zaeef

۔ (۹۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: مَاتَ لِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ، فَقَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔)) فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ لَقِیَنِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ: اَنْتَ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِی الْوَلَدَیْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: لَاَنْ یَکُوْنَ قَالَہُ لَہُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَیْہِ حِمْصُ وَفِلَسْطِیْنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔

9411

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9411

Sahih

۔ (۹۴۱۱)۔ عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: اَتَیْتُ اَبَاذَرٍّ قُلْتُ: مَابَالُکَ؟ قَالَ: لِیْ عَمَلِیْ، قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ بَیْنَھُمَا ثَلاثَۃٌ مِّنْ اَوْلادِھِمَا، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔

9412

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9412

Sahih

۔ (۹۴۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَدَّمَ ثَـلَاثَۃً مِّنْ وَلَدِہِ حَجَبُوْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔

9413

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9413

Sahih

۔ (۹۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَلاثَۃُ اَوْلَادٍ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ وَاِیَّاھُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ الْجَنَّۃَ، وَقَالَ: یُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ حَتّٰییَجِیْئَ اَبَوَانَا، قَالَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، فَیَقُوْلُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَبَوَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔

9414

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9414

Sahih

۔ (۹۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، قَالَ: تُوُفِّیَ ابْنَانِ لِیْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا تُحَدِّثُنَاہُ یُطَیِّبُ بِاَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ((صِغَارُھُمْ دَعَامِیْصُ الْجَنَّۃِیَلْقٰی اَحَدُھُمْ اَبَاہُ اَوْ قَالَ: اَبَوَیْہِ، فَیَاْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہٖاَوْیَدِہِ کَمَا آخُذُ بِصَنَفَۃِ ثَوْبِکَ ھٰذَا، فَلا یُفَارِقُہُ حَتَّییُدْخِلَہُ اللّٰہُ وَاَبَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔

9415

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9415

Sahih

۔ (۹۴۱۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رجلًا کَانَ یَاْتِیْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ اِبْنٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا اُحِبُّہُ، فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مافَعَلَ ابْنُ فَـلَانٍ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَبِیْہِ: ((اَمَا تُحِبُّ اَنْ لَّا تَاْتِیَ بَابًا مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ اِلَّا وَجَدْتَہُ یَنْتَظِرُکَ؟)) فَقَالَ الرَّجُل: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَہُ خَاصَّۃًاَوْ لِکُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِکُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔

9416

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9416

Zaeef

۔ (۹۴۱۶)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ کُرَیْبٍ، اَنَّ غُلَامًا مِنْھُمْ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبَوَاہُ اَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ مِثْلِ اِبْنِکَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِہٖ کَانَ لَہُابْنٌقَدْاَدَّبَاَوْدَبَّوَکَانَ یَاْتِیْ مَعَ اَبِیْہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اِنَّ اِبْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبُوْہُ قَرِیْبًا مِنْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ لَایَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَرٰی فُلَانًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ابْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! اَتُحِبُّ لَوْ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ الْآنَ کَانْشَطِ الصِّبْیَانِ نَشَاطًا؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ اَجْرَاُ الْغِلْمَانِ جَرَائَ ۃً؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ کَھْلًا کَاَفْضَلِ الْکُھُوْلِ اَوْ یُقَالَ لَکَ: اُدْخُلِ الْجَنَّۃَ ثَوَابَ مَا اُخِذَ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟

9417

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9417

Sahih

۔ (۹۴۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْطَلَقَ حَارِثَۃُ بْنُ عَمَّتِیْیَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَاَصَابَہُ سَھْمٌ فَقَتَلَہُ، قَالَ: فَجَاءَتْ اُمُّہُ عَمَّتِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنِیْ حَارِثَۃُ، اِنْ یَکُ فِی الْجَنَّۃِ اَصْبِرُ وَاَحْتَسِبُ، وَاِلَّا فَسَیَرَی اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ قَالَ: ((یَا اُمَّ حَارِثَۃَ! اِنَّھَا جِنَانٌ کَثِیْرَۃٌ وَاِنَّ حَارِثَۃَ فِی الْفِرْدَوْسِ الْاَعْلٰی۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ رضی ‌اللہ ‌عنہ ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔