Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1870

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

9390

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9390

Sahih

۔ (۹۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌّ اَعْجَبَہُ صِحَّتُہُ وَجَلَدُہُ، قَالَ: فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَتیٰ اَحْسَسْتَ اُمَّ مِلْدَمٍ؟)) قَالَ: وَاُیُّ شَیْئٍ اُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: ((اَلْحُمَّی۔)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الْحُمّٰی؟ قَالَ: ((سَخَنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ۔)) قَالَ: مَا بِذٰلِکَ لِیْ عَھْدٌ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: ((فَمَتٰی اَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعٍ؟)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الصُّدَاعُ؟ قَالَ: ((ضَرَبَانٌ یَکُوْنُ فِی الصُّدْغَیْنِ وَالرَّاْسِ۔)) قَالَ: مَالِیْ بِذٰلِکَ عَھْدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا اَوْ وَلّٰی الْاَعْرَاِبیُّ، قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلَیْہِ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، اس کی صحت اور قوت نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے اُمِّ مِلْدَم کو کب محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: اُم مِلْدَم کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار۔ اس نے کہا: جی بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چمڑے اور ہڈیوں کے درمیان پیدا ہونے والی حرارت کو بخار کہتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے تو کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پھر پوچھا: اچھا تو نے کبھی صُدَاع محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: صُدَاع کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کن پٹیوں اور سر کے درمیان درد ہوتی ہے۔ اس نے کہا: مجھے تو یہ بھی کبھی محسوس نہیں ہوا، جب وہ بدّو چلا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات خوش کرے کہ وہ کسی جہنمی شخص کو دیکھے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ ایک روایت میں ہے: جو آدمی آگ والوں میں سے کسی شخص کو دیکھنا پسند کرتا ہو، وہ اس کو دیکھ لے۔

9391

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9391

Zaeef

۔ (۹۳۹۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِِ! ابْنَۃٌ لِیْ کَذَا َوکَذَا، وَذَکَرَتْ مِنْ حُسْنِھَا وَجَمَالِھا، فَآثَرْتُکَ بِھَا، فَقَالَ: ((قَدْ قَبِلْتُھَا۔)) فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُھَا حَتّٰی ذَکَرَتْ اَنَّھَا لَمْ تَصْدَعْ، وَلَمْ تَشْتَکِ شَیْئًا قَطُّ، قَالَ: ((لا حَاجَۃَ لِیْ فِی ابْنَتِکِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔