Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 155 · Chapter 1853

اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل

توکل کی ترغیب دلانے کا بیان

8 hadiths in this chapter

9252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9252

Sahih

۔ (۹۲۵۲)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ خَطَّابٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْاَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا۔))(مسند احمد: ۲۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرو، جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا، جیسے وہ پرندے کو رزق دیتا ہے، جو صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو پیٹ بھرا ہوا۔

9253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9253

Sahih

۔ (۹۲۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (( لَوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ (وَفِی رِوَاَیۃٍ لَوْ اَنَّکُمْ تَوَکَّلْتُمْ) عَلیٰ اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، اَلَا تَرَوْنَ اَنَّھَا تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا!۔)) (مسند احمد: ۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکّل کرو، جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تم اس طرح روزی دے گا، جیسے وہ پرندے کو روزی دیتا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ پرندہ صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو سیرو سیراب۔

9254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9254

Sahih

۔ (۹۲۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَزَلَ بِہٖحَاجَۃٌ، فَاَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ، کَانَ قَمِنًا مِنْ اَنْ لاَّ تَسْہُلَ حَاجَتُہُ، وَمَنْ اَنَزَلَھَا بِاللّٰہِ، آتاَہُ اللّٰہُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ، اَوْ بِمَوْتٍ آجِلٍ۔)) (مسند احمد: ۳۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی ضرورت پڑی اور اس نے اس کو لوگوں پر پیش کر دیا تو وہ اس چیز کا زیادہ لائق ہو گا کہ اس کی ضرورت آسانی سے پوری نہ ہو اور جس نے اس حاجت کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو اللہ تعالیٰ یا تو اس کو جلدی رزق دے گا اور پھر تاخیر سے آنے والی موت دے دے گا۔

9255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9255

Sahih

۔ (۹۲۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَاَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ، لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُہُ، وَمَنْ اَنْزَلَھَا بِاللّٰہِ، عَزَّوَجَلَّ، اَوْشَکَ اللّٰہُ لَہُ بِالْغِنَی،اِمَّا اَجَلٌ عَاجِلٌ، اَوْ غِنًی عَاجِلٌ۔)) (مسند احمد: ۳۸۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا اور پھر اس نے اس فاقے کو لوگوں پر پیش کر دیا تو اس کا فاقہ پورا نہیں ہو گا اور جس نے اس کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو وہ جلد ہی اس کو غنی کر دے گا، جلدی موت کی صورت میں یا جلدی غنی کی صورت میں۔

9256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9256

Sahih

۔ (۹۲۵۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُرِیَ الْاُمَمَ بِالْمَوْسِمِ، فَرَاثَتْ عَلَیْہِ اُمَّتُہُ، قَالَ: ((فَاُرِیْتُ اُمَّتِی، فَاَعْجَبَنِی کَثْرَتُھُمْ، قَدْ مَلَئُوْا السَّھْلَ وَ الْجَبَلَ، فَقِیْلَ لِی: اِنَّ مَعَ ھٰؤُلائِ سَبْعِیْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوَنَ، وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) قَالَ عُکَاشَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِی مِنْھُمْ، فَدَعَا لَہُ، ثُمَّ قَامَ، یَعْنِی آخَرَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِی مَعَھُمْ قاَلَ: ((سَبَقَکَ بِھَا عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حج کے زمانے میں امتیں دکھائی گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت تاخیر سے دکھائی گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میری امت مجھے دکھائی گئی تو اس کی کثرت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا، ہموار جگہ کیا پہاڑ کیا، ہر جگہ کو بھرا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے بھی ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، دم نہیں کرواتے، برا شگون نہیں لیتے اور اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے دعا کی، اتنے میں ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔

9257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9257

Zaeef

۔ (۹۲۵۷)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اُھْدِیَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثُ طَوَائِرَ، فَاَطْعَمَ خَادِمُہُ طَاِئرًا، فَلَمَّا کَانَ فِی الْغَدِ اَتَتْہُ بِہٖ،فَقَالَلَھَا: ((اَلَمْاَنْھَکِاَنْتَرْفَعِی شَیْئًا، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْتِی بِرِزْقِ کُلِ غَدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے میں تین پرندے پیش کیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک پرندہ اپنے خادم کو کھلا دیا، اگلے دن خادمہ نے ایک پرندہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تجھے اس چیز سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چیز اگلے دن کے لیے نہ رکھا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر دن کا رزق عطا کرتا ہے۔

9258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9258

Zaeef

۔ (۹۲۵۸)۔ عَنْ سَلاَّمٍ اَبِی شُرَحْبِیْلَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبَّۃَ وَسَوَائَ ابْنَیْ خَالِدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَا یَقُوْلَانِ اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَعْمَلُ عَمَلاً اَوْ یَبْنِی بَنَائً فَاَعَنَّاہُ عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا وَقَالَ: ((لَا تَیْاَسَا مِنَ الْخَیْرِ (وَفِی رَوَایَۃٍ مِّنَ الرِّزْقِ) مَا تَھَزَّزَتْ رُؤْسُکُمَا، اِنَّ الْاِنْسَانَ تَلِدُہُ اُمُّہُ اَحْمَرَ لَیْسَ عَلَیْہِ قِشْرَۃٌ، ثُمَّ یُعْطِیْہِ اللّٰہُ وَیَرْزُقُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حَبّہ اور سیدنا سواء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کام کر رہے تھے یا کوئی عمارت بنا رہے تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہمارئے لیے دعا کی اور فرمایا: جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں گے، اس وقت تک تم نے خیر اور رزق سے ناامید نہیں ہونا، بیشک جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو اس پر باریک لباس تک نہیں ہوتا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔

9259

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9259

Sahih

۔ (۹۲۵۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: مَرَّ بِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُحْصِی شَیْئًا وَاَکِیْلُہُ، قَالَ: ((یَا اَسْمَائُ! لَا تْحْصِی فَیُحْصِی اللّٰہُ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَمَا اَحْصَیْتُ شَیْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِی وَلَا دَخَلَ عَلَیَّ، وَمَا نَفِذَ عِنْدِیْ مِنْ رِزْقِ اللّٰہِ اِلاَّ اَخَلَفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کوئی چیز گن رہی تھی اور اس کا ماپ کررہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسماء! گنا نہ کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر گننا شروع کر دے گا۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد میرے پاس جو رزق آیا اور جو خرچ ہوا، میں نے کبھی کسی چیز کو شمار نہیں کیا اور جس دن اللہ تعالیٰ کا جو رزق خرچ ہوا، اس نے اس کا متبادل عطا کر دیا۔