Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 154 · Chapter 1833

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان

9 hadiths in this chapter

9092

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9092

Sahih

۔ (۹۰۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَقُّ الضِّیَافَۃِ ثَلاثَۃُ اَیَّامٍ، فَمَا اَصَابَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔

9093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9093

Sahih

۔ (۹۰۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۴۵م)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔

9094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9094

Sahih

۔ (۹۰۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الضِّیَافَۃُ ثَـلَاثَۃُ اَیَّامٍ، وَجَائِزَتُہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَلایَحِلُّ لِلرَّجُلِ اَنْ یُقِیْمَ عِنْدَ اَحَدٍ حَتّٰییُؤْثِمَہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَیُؤْثِمُہُ؟ قَالَ: ((یُقِیْمُ عِنْدَہُ وَلَیْسَ لَہُ شِیْئٌیَقْرِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔

9095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9095

Sahih

۔ (۹۰۹۵)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَیْرِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاعُثْمَانَ النَّھْدِیَّ،یَقُوْلُ: تَضَیَّفْتُ اَبَاھُرَیْرَۃَ سَبْعًا، قَالَ: وََسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَسَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ اَصْحَابِہٖتَمْرًا،فَاَصَابَنِیْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ اِحْدَاھُنَّ حَشَفَۃٌ، فَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَعَجَبَ اِلَیَّ مِنْھَا شَدَّتْ مَضَاغِیْ۔ (مسند احمد: ۹۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔

9096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9096

Sahih

۔ (۹۰۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمْ عَلٰی اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ فَاَطْعَمَہُ طَعَامًا فَلْیَاْکُلْ مِنْ طَعَامِہِ، وَلا یَسْاَلْہُ عَنْہُ، فَاِنْ سَقَاہُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِہٖفَلْیَشْرَبْ مِنْ شَرَابِہٖ،وَلایَسْاَلْہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔

9097

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9097

Sahih

۔ (۹۰۹۷)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الضَّیْفِ وَاجِبَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ، فَاِنِ اصْبَحَ بِفِنَائِہِ مَحْرُوْمًا کَان دَیْنًا لَہُ عَلَیْہِ اِنْ شَائَ اقْتَضَاہُ، وَاِنْ شَائَ تَرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

9098

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9098

Zaeef

۔ (۹۰۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا مُسْلِمٍ اَضَافَ قَوْمًا فَاَصْبَحَ الضَّیْفُ مَحْرُوْمًا، فَاِنَّ حَقًّا عَلٰی کُلِّ مْسِلِمٍ نَصْرُہُ حَتّٰییَاْخُذَ بِقَرَی لَیْلَتِہِ مِنْ زَرْعِہِ وَمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔

9099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9099

Sahih

۔ (۹۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَیُّمَا ضَیْفٍ نَزَلَ بِقْوْمٍ فَاَصْبَحَ الضَّیْفُ مَحْرُوْمًا، فَلَہُ اَنْ یَاْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاہُ، وَلا حَرَجَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔

9100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9100

Sahih

۔ (۹۱۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لا یَقْرُوْنَّا فَمَاتَرٰی فِیْ ذٰلِکَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَاَمَرُوْا لَکُمْ بِمَا یَنْبِغِیْ لِلضَّیْفِ فَاقْبَلُوْا، وَاِنْ لَمْ یَفْعَلُوْا فَخُذُوْا مِنْھُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِیْیَنْبَغِیْ لَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔