Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 154 · Chapter 1824

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان

26 hadiths in this chapter

8989

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8989

Sahih

۔ (۸۹۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمْرِہِ، وَاَنْ یُزَادَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، فَلْیَبَرَّ وَالِدَیْہِ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔

8990

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8990

Sahih

۔ (۸۹۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَجْزِیْ وَلَدٌ وَالِدَہُ، اِلَّا اَنْ یَجِدَہُ مَمْلُوْکًا، فَیَشْتَرِیَہُ فَیُعْتِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔

8991

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8991

Zaeef

۔ (۸۹۹۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَلا تَعُقَّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ اَنْ تَخْرُجَ مِنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیت یہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔

8992

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8992

Sahih

۔ (۸۹۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: جِئْتُ لِاُبَایِعُکَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی عَلَی الْھِجْرَۃِ) وَتَرَکْتُ اَبَوَیَّیَبْکِیَانِ، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِلَیْھِمَا، فَاَضْحِکْہُمَا کَمَا اَبْکَیْتَھُمَا۔)) وَاَبٰی اَنْ یُبَایِعَہُ۔ (مسند احمد: ۶۸۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔

8993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8993

Sahih

۔ (۸۹۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِذْ اَقْبَلَ رَجُلٌ مِّنْ ھٰذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَرَدْتُّ الْجِھَادَ مَعَکَ اَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ اَبْوَیْکَ اَحَدٌ حَيٌّ ؟)) قَالَ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کِلَاھُمَا، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِبْرَرْ اَبَوَیْکَ۔)) قَالَ: فَوَلّٰی رَاجِعًا مِّنْ حَیْثُ جَائَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔

8994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8994

Sahih

۔ (۸۹۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَریْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلاً جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَأْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ؟ فَقَالَ: ((أَحَیٌّ وَالِدَاکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔

8995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8995

Sahih

۔ (۸۹۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ھَاجَرَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَجَرْتَ الشِّرْکَ، وَلٰکِنَّہُ الْجِھَادُ، ھَلْ بِالْیَمَنِ اَبَوَاکَ ؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَذِنَا لَکَ؟۔)) قَالَ: لا، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ اِلٰی اَبَوَیْکَ فَاسْتَاْذِنْھُمَا فَاِنْ فَعَلا وَ اِلَّا فَبَرَّھُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔

8996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8996

Sahih

۔ (۸۹۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاھِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَدْتُّ الْغَزْوَ وَجِئْتُکَ اَسْتَشِیْرُکَ ؟ فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((الْزَمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَعِنْدَ رِجْلِھَا۔)) ثُمَّ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِیْ مَقَاعِدَ شَتّٰی کَمِثْلِ ھٰذَا الْقُوْلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔

8997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8997

Sahih

۔ (۸۹۹۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّـلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِھِنِّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔

8998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8998

Sahih

۔ (۸۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلاھُمَا عِنْدَہُ الْکِبْرُ لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔

8999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8999

Sahih

۔ (۸۹۹۹)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بعْدِ ذٰلِکَ فاَبْعَدَہُ اللّٰہُ وَاَسْحَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابی بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔

9000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9000

Sahih

۔ (۹۰۰۰)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّھَاتِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِآبائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔

9001

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9001

Zaeef

۔ (۹۰۰۱)۔ عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِمَوْلاہُ الَّذِیْ یَلِیْہِ، وَاِنْ کَانَتْ عَلَیْہِ فِیْہِ اَذَاۃٌ تُؤْذِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خداش بن سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔

9002

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9002

Sahih

۔ (۹۰۰۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حِیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ اَبَرُّ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ((ثُمَّ اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُّمَّ اَبَاکَ، ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْرَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔

9003

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9003

Sahih

۔ (۹۰۰۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ اِلَّا قَوْلَہ: ((ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْربَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔

9004

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9004

Zaeef

۔ (۹۰۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُسَیْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ بَدْرِیًا وَکَانَ مَوْلَاھُمْ، قَالَ اَبُوْ اُسَیْدٍ: بَیْنَمَا اَنَا جَالِسٌ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہ! ھَلْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْ بِرِّ اَبَوَیَّ شَیْئٌ بَعْدَ مَوْتِھِمَا اَبَرُّھُمَا بِہٖ؟قَالَ: ((نَعَمْخِصَالٌاَرْبَعَۃٌ، اَلصَّلاۃُ عَلَیْھُمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَھُمَا، وَاِنْفَاذُ عَھْدِھِمَا، وَاِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ الَّتِیْ لا رَحِمَ لَکَ اِلاَّ مِنْ قِبَلِھِمَا، فَھُوَ الَّذِیْ بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ بِرِّھِمَا بَعْدَ مَوْتِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔

9005

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9005

Sahih

۔ (۹۰۰۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیَّیُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلاً اَمَرَتْہُ اُمُّہُ، اَوْ اَبُوْہُ، اَوْ کِلاھُمَا، قَالَ: شُعَبَۃُ،یَقُوْلُ: ذٰلِکَ اَنْیُّطَلِّقَ اِمْرَاَتَہُ، فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِائْۃَ مُحَرَّرٍ، فَاَتٰی اَبَا الدَّرْدَائِ، فَاِذَا ھُوَ یُصَلِّی الضُّحّٰییُطِیْلُھَا، فَصَلّٰی مَابَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَاَلَہُ، فَقَالَ لَہُ اَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَوْفِ بِنَذْرِکَ، وَبَرَّ وَالِدَیْکَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْوَالِدُ اَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّۃِ، فَحَافِظْ علَی الْوَالِدِ، اَوِ اتْرُکْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔

9006

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9006

Sahih

۔ (۹۰۰۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، اَیْضًا قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ اَبَاالدَّرْدَائٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ امْرَاَتِیْ بِنْتُ عَمِّیْ وَاَنَا اُحِبُّھَا، وَاِنَّ وَالِدَتِیْ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَقَالَ: لا آمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَھَا وَلا آمُرُکَ اَنْ تَعْصِیَ وَالِدَتَکَ، وَلٰکِنْ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْوَالِدۃَ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃٍ فَاْنْ شِئْتَ فَاَمْسِکْ وَاِنْ شِئْتَ فَدَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔

9007

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9007

Sahih

۔ (۹۰۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: کَانَ فِیْنَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِہٖاُمُّہُاَنْیَتَزَوَّجَ حَتّٰی تَزَوَّجَ، ثُمَّ اَمَرَتْہُ اَنْ یُّفَارِقَھَا فَرَحَلَ اِلٰی اَبِی الدَّرْدَائِ بِالشَّامِ فَقَالَ: اِنَّ اُمِّیْ لَمْ تَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجَتُ ثُمَّ اَمَرَتْنِیْ اَنْ اُفَارِقَ، قَالَ: مَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُفَارِقَ وَمَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُمْسِکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ فَاَضِعْ ذٰلِکَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْ۔)) قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

9008

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9008

Sahih

۔ (۹۰۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ تَحْتِیْ اِمْرَاَۃٌ اُحِبُّھَا، وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَھُہَا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَاَبَیْتُ، فَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اِمْرَاۃً کَرِھْتُھَا لَہُ فَاَمَرْتُہُ اَنْ یُّطَلِّقَھَا فَاَبٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ اِمْرَاَتَکَ۔)) فَطَلَّقَھَا۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ اَیْضًا) فَقَالَ: ((اَطِعْ اَبَاکَ۔)) (مسند احمد: ۵۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔

9009

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9009

Zaeef

۔ (۹۰۰۹)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ، اَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِیَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ اَنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ وَالِدَیْکَ مِنْ اَحَدٍ حَيٌّ؟)) قَالَ لَہُ: مَرَّاتٍ۔ قَالَ: لا، قَالَ: ((فَاسْقِ الْمَائَ۔)) قَالَ: کَیْفَ اَسْقِیْہِ ؟ قَالَ: ((اِکفِھِمْ آلَتَہُ اِذَا حَضَرُوْہُ وَاحْمِلْہُ اِلَیْھِمْ اِذَا غَابُوْا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔

9010

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9010

Sahih

۔ (۹۰۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ اُمِّیْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: اَتَتْنِیْ اُمِّیْ) وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ، فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ اِذْ عَاھَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُمِّیْ قَدِمَتْ وَھِیَ رَاغِبَۃٌ، اَفَاَصِلُھَا ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ صِلِیْ اُمَّکِ۔))(مسند احمد: ۲۷۴۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔

9011

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9011

Sahih

۔ (۹۰۱۱)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَیَّ اُمِیِّ فِیْ مُدَّۃِ قُرَیْشٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ وَمُدَّتِھِمُ الَّتِیْ کَانَتْ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مُشْرِکَۃً وَھِیَرَاغِبَۃٌیَعْنِیْ مُحْتَاجَۃً، فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمِّیْ قَدِمَتْ عَلَیَّ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ رَاغِبَۃٌ اَفَاَصِلُھَا؟ قَالَ: ((صِلِیْ اُمَّکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔

9012

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9012

Sahih

۔ (۹۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا مَرَّ عَلَیْہِ وَھُمْ فِیْ طَرِیْقِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ: اَلَسْتَ فُلانَ بْنَ فُلانٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَ اِلٰی حِمَارٍ کَانَ یَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ اِذَا مَلَّ رَاحِلَتَہُ، وَعِمَامَۃٍ کَانَ یَشُدُّ بِھَا رَاْسَہُ، فَدَفَعَھَا اِلٰی الْاَعْرَابِیِّ، فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَہُ بَعْضُنَا: انْطَلَقْتَ اِلٰی حِمَارِکَ الَّذِیْ کُنْتَ تَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ، وَعِمَامَتِکَ الَّتِیْ کُنْتَ تَشُدُّ بِھَا رَاْسَکَ، فَاعْطَیْتَھُمَا ھٰذَا الْاَعْرَابِیَّ، وَاِنَّمَا کَانَ یَرْضٰی بِدِرْھَمٍ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ صِلَۃُ الْمَرْئِ اَھْلَ وُدِّ اَبِیْہِ بَعْدَ اَنْ یُوَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جانا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔

9013

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9013

Sahih

۔ (۹۰۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘

9014

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9014

Sahih

۔ (۹۰۱۴)۔ (عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوْلادَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔