Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 154 · Chapter 1823

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان

4 hadiths in this chapter

8985

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8985

Zaeef

۔ (۸۹۸۵)۔ عَنْ وَابِصَۃَیَعْنِی ابْنَ مَعْبَدٍ الْاَسَدِیَّ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ لا اَدَعَ شَیْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ اِلَّا سَاَلْتُہُ عَنْہُ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَیَسْتَفْتُوْنَہُ، فَجَعَلْتُ اَتَخَطَّاھُمْ، فَقَالُوْا: اِلَیْکَیَا وَابِصَۃُ! عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: دَعْوْنِیْ فَاَدْنُوَ مِنْہُ فَاِنَّہُ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ اَنْ اَدْنُوَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((دَعُوْا وَابِصَۃَ، اُدْنُ یَا وَابِصَۃُ!)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا۔ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی قَعَدْتُّ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: ((یَا وَابِصَۃُ! اُخْبِرُکَ اَوْ تَسْاَلُنِیْ؟ )) قُلْتُ: لا بَلْ اَخْبِرْنِیْ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَمَعَ اَنَامِلَہُ فَجَعَلَ یَنْکُتُ بِھِنِّ فِیْ صَدْرِیْ وَیَقُوْلُ: ((یَا وَابِصَۃُ! اسْتَفْتِ قَلْبَکَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَکَ۔ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ، وَاِنْ اَفْتَاکَ النَّاسُ وَاَفْتَوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔

8986

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8986

Zaeef

۔ (۸۹۸۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟)) فَقُلْتُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَاجِئْتُ اَسْاَلُکَ عَنْ غَیْرِہِ، فَقَالَ: ((الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَہُ صَدْرُکَ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ، وَاِنْ اَفَتَاکَ عَنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔

8987

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8987

Sahih

۔ (۸۹۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِمَا یَحِلُّ لِیْ وَیُحَرَّمُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَصَعَّدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَوَّبَ فِی النَّظْرِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِرُّ مَاسَکَنَتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَالْاِثْمُ مَالَمْ تَسْکُنْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَلَمْ یَطْمَئِنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَاِنْ اَفْتَاکَ الْمُفْتُوْنَ۔)) وَقَالَ: ((لاتَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْاَھْلِیِّ وَلا ذَا نَابٍ مِّنَ السِّبَاعِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔

8988

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8988

Sahih

۔ (۸۹۸۸)۔ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟ فَقَالَ: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔