Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 153 · Chapter 1820

اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

8937

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8937

Sahih

۔ (۸۹۳۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہٗسَمِعَالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُصُّ عَلَی الْمِنْبَرِ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّانِیَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّانِیَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّالِثَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ َربِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّالِثَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِی الدَّرْدَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔}… اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری دفعہ فرما دیا کہ اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ میں نے بھی دوسری دفعہ کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری بھی کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری دفعہ وہی آیت پڑھتے ہوئے فرمایا: اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ اُدھر میں نے بھی تیسری دفعہ وہی سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اگرچہ ابو درداء کا ناک خاک آلود ہو جائے۔

8938

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8938

Sahih

۔ (۸۹۳۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْاَسْوَدِ: لا اَقُوْلُ فِیْ رَجُلٍ خَیْرًا وَلا شَرًّا حَتّٰی اَنْظُرَ مَا یُخْتَمُ لَہُ، یَعْنِیْ بَعْدَ شَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیْلَ: وَمَا سَمِعْتَ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ اَشَدُّ اِنْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ اِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْیًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سید مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد اب اس وقت تک کسی شخص کے بارے میں خیریا شرّ کا فیصلہ نہیں کرتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا اختتام ہو رہا ہے، کسی نے کہا: کون سی حدیث تو نے سنی ہے؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے، جو ساری کی ساری ابل رہی ہو۔

8939

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8939

Sahih

۔ (۸۹۳۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ: ((یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ اَصْحَابُہُ وَاَھْلُہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا؟ وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئَتَ بِہٖ،قَالَ: ((اِنَّالْقُلُوْبَبِیَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُقَلِّبُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: … یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔(اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھنا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور اہل و عیال نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہو شریعت پر ایمان لائے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمام دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔

8940

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8940

Sahih

۔ (۸۹۴۰)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَجُلًا کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَالًا وَوَلَدًا، حَتّٰی ذَھَبَ عَصْرُہُ وَجَائَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُقَالَ: اَیْ بَنِیَّ! اَیَّ اَبٍّ کُنْتُ لَکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرَ اَبٍّ، قَالَ: اَنْتُمْ مُطِیْعِیَّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: انْظُرُوْا اِذَا اَنَا مِتُّ اَنْ تُحَرِّقُوْنِیْ حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ فَحْمًا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اھْرُسُوْنِیْ بِالْمِہْرَاسِ یُوْمِئُی بِیَدِہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیَوْمِ رِیْحٍ لَعَلِّیْ اَضِلُّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) فَاِذَا ھُوَ فِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ تَعَالٰی، فَقَالَ: یَا ابْنَ آدَمَ! مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: اَیْ رَبِّ مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَتَلافَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک آدمی کے مال و دولت میں بڑی برکت عطا کی تھی،یہاں تک کہ اس کا زمانہ گزر گیا اور نیا زمانہ آنے لگا، پس جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: تم نے مجھے کیسا باپ پایا؟انھوں نے کہا: بہترین باپ، اس نے کہا: کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: دیکھو، جب میں مر جاؤں تو تم نے مجھے اتنا جلانا ہے کہ میں کوئلے بن جاؤں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: پھر مجھے ہاون دستے سے کوٹ دینا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر مجھے (یعنی میری راکھ کو) ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، ہو سکتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے چھپ جاؤں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا،لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قبضے میں کر کے پوچھا: اے آدم کے بیٹے! تجھے یہ کاروائی کرنے پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا ڈر تھا، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوتاہی کو معاف کر دیا۔

8941

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8941

Sahih

۔ (۸۹۴۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ: ((فَجَمَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَقَالَ لَہُ: لِمَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِکَ، قَالَ: فَغَفَرَ لَہُ۔)) قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو: اَنَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، وَکَانَ نَبَّاشًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے ، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کر لیا اور کہا: تو نے ایسے کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی وجہ سے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ بن عمرو نے کہا: میں نے سنا ہے کہ وہ کفن چور تھا۔

8942

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8942

Sahih

۔ (۸۹۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا لَمْ یَعْمَلْ مِنَ الْخَیْرِ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا التَّوْحِیْدَ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاَھْلِہِ: اِذَا اَنَا مِتُّ، فَخُذُوْنِیْ وَاحْرُقُوْنِیْ، حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ حُمَمَۃً، ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ، ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیومٍ رَاحٍ، قَالَ: فَفَعَلُوْا بِہٖذٰلِکَ،فَاِذَاھُوَفِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَغَفَرَاللّٰہُ لَہُ۔)) قَالَ یَحْيٰ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا اور کوئلہ بنا دینا، پھر پیس دینا اور ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن اچانک وہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں آگیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے کسی چیز نے اس کاروائی پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر نے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا۔

8943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8943

Sahih

۔ (۸۹۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

8944

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8944

Sahih

۔ (۸۹۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ وَاَبِی الدَّھْمَائِ، قَالَا: کَانَا یُکْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ ھٰذَا الْبَیْتِ، قَالَا: اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقُلْنَا: ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا؟) فَقَالَ الْبَدَوِیُّ: اَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِیْ مِمَّا عَلَّمَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَقَالَ: ((اِنَّکَ لَنْ تَدَعَ شَیْئًا اِتْقَائَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَعْطَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو قتادہ اور ابو دہماء سے مروی ہے کہ وہ بیت اللہ کی طرف کثرت سے سفر کرتے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس آئے اور کہا: کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ اس بدّو نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بعض وہ چیزیں سکھائیں، جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر عطا کرے گا۔