Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 152 · Chapter 1819

میانہ روی کے مسائل

معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا

3 hadiths in this chapter

8934

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8934

Sahih

۔ (۸۹۳۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاء أَبُو الْعَلَاء حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِی عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِیرِیَّیَقُولُ کُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَیُحَدِّثُنِی فَإِذَا سَأَلْتُہُ الزِّیَادَۃَ قَالَ لَیْسَ عِنْدِی غَیْرُ ذَا وَکَانَ ضَرِیرًا۔ (مسند احمد: ۲۰۸۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عبیداللہ قواریری کہتے ہیں: میں ناصح بن علاء کے پاس سے گزرتا تھا اور وہ مجھے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب میں ان سے مزید کا سوال کرتا تو وہ کہتے: میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ نابینا آدمی تھے۔

8935

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8935

Zaeef

۔ (۸۹۳۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ، قَرَاْتُ عَلٰی اَبِیْ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنَا سُکَیْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْعَبَدِیُّ، حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ الْھِجْرِیُّ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ۔))(مسند احمد: ۴۲۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میانہ روی اختیار کی، وہ محتاج نہیں ہو گا۔

8936

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8936

Zaeef

۔ (۸۹۳۶)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مِنْفِقْہِالرَّجُلِرِفْقُہٗفِیْ مَعِیْشَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کی سمجھداری کی علامت ہو گی کہ وہ معیشت میں نرمی یعنی اعتدال اختیار کرے۔