Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1808

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سورۃالفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان

5 hadiths in this chapter

8873

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8873

Sahih

۔ (۸۸۷۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَیْنَا أَ نَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَقَبٍ مِنْ تِلْکَ النِّقَابِ إِذْ قَالَ لِی: ((یَا عُقْبَۃُ أَ لَا تَرْکَبُ؟۔)) قَالَ: فَأَ جْلَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَ رْکَبَ مَرْکَبَہُ ثُمَّ قَالَ: ((یَا عُقَیْبُ! اَلَا تَرْکَبُ؟)) قَالَ: فَأَ شْفَقْتُ أَ نْ تَکُونَ مَعْصِیَۃً، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَکِبْتُ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَکِبَ ثُمَّ قَالَ: ((یَا عُقَیْبُ! أَ لَا أُعَلِّمُکَ سُورَتَیْنِ مِنْ خَیْرِ سُورَتَیْنِ، قَرَأَ بِہِمَا النَّاسُ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: فَأَ قْرَأَ نِی {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَأَ بِہِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِی قَالَ: ((کَیْفَ رَأَیْتَیَا عُقَیْبُ! اقْرَأْ بِہِمَا کُلَّمَا نِمْتَ وَکُلَّمَا قُمْتَ۔)) قَالَ أَ بُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ہُوَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبْسٍ الْجُہَنِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری ایک پہاڑی سے گزرنے والے راستہ سے چلا رہا تھا، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کچھ نہ کہا، دراصل میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلالت ِ شان کے پیش نظر سوار نہیں ہونا چاہتاتھا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر فرمایا: اے عقیب! تم سوار کیوں نہیں ہوتے۔ اب میں ڈر گیا کہ یہ نافرمانی ہی نہ ہو جائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اترے اور میں کچھ دیر کے لئے سوار ہو گیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوار ہو گئے اور فرمایا: اے عقیب! کیا میں تمہیں سب سے بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں، جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول!، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے اور اس نماز میں ان ہی دو سورتوں کی تلاوت کی، پھر میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عقیب! کیسا پایا (ان دو سورتوں کی فضیلت کو کہ میں نے ان کی تلاوت کر کے نماز پڑھا دی ہے)، جب بھی تو سوئے اور جاگے تو ان سورتوں کی تلاوت کر۔

8874

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8874

Sahih

۔ (۸۸۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْزِلَتْ عَلَیَّ سُوْرَتَانِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اُنْزِلَ عَلَیَّ آیَاتٌ لَمْ یُرَ مِثْلٰہُنَّ) فَتَعَوَّذُوْا بِہِنَّ فَاِنَّہٗلَمْیَتَعَوَّذْ بِمِثْلِہِنَّ۔)) یَعْنِی الْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، ایک روایت میں ہے: مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل آیات نہیں پائی گئیں، ان کے ذریعے پناہ طلب کیا کرو، ان جیسی اور کوئی سورت نہیں، جس کے ذریعے پناہ مانگی جائے۔

8875

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8875

Sahih

۔ (۸۸۷۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ اَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کروں۔ یہ جمع کا لفظ ہے اور اس سے مراد تین سورتیں (اخلاص، فلق اور ناس) مراد ہیں۔

8876

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8876

Sahih

۔ (۸۸۷۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ بِالْمُعَوِّذَتَیْنِ فَاِنَّکَ لَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، ان سورتوں کی مثل کوئی چیز نہیں، جو تو پڑھے۔

8877

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8877

Sahih

۔ (۸۸۷۷)۔ عَنْ أَ بِی الْعَلَائِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ، وَالنَّاسُ یَعْتَقِبُونَ وَفِی الظَّہْرِ قِلَّۃٌ، فَحَانَتْ نَزْلَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَزْلَتِی فَلَحِقَنِی مِنْ بَعْدِی فَضَرَبَ مَنْکِبَیَّ، فَقَالَ: (({قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔)) فَقُلْتُ: أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَرَأْتُہَا مَعَہُ ثُمَّ قَالَ: (({قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}،۔)) فَقَرَأَ ہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَرَأْتُہَا مَعَہُ قَالَ: ((إِذَا أَنْتَ صَلَّیْتَ فَاقْرَأْ بِہِمَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو العلا کہتے ہیں: ایک آدمی یعنی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے اور سواریاں کم ہو نے کی وجہ سے لوگ باری باری سوار ہو رہے تھے، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور میرے اترنے کی باری بھی آ گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے میرے پیچھے سے ملے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرےکندھے پر مارا اور فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔ میں نے پڑھا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ سورت پڑھی اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ مکمل سورت پڑھی اور میں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو ان کی تلاوت کیا کر۔