Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1801

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان

3 hadiths in this chapter

8847

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8847

Zaeef

۔ (۸۸۴۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: (({قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} رُبْعُ الْقُرْآن۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ کافرون قرآن مجید کا چوتھائی حصہ ہے۔

8848

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8848

Sahih

۔ (۸۸۴۸)۔ عَنْ مُہَاجِرٍ أَ بِی الْحَسَنِ، عَنْ شَیْخٍ أَ دْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ یَقْرَأُ: {قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} قَالَ: ((أَ مَّا ہٰذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّرْکِ۔)) قَالَ: وَإِذَا آخَرُیَقْرَأُ: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَ حَدٌ} فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہَا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ’مہاجرابو حسن، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوپانے والے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ سورۂ کافرون پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شرک سے بری ہو گیا ہے۔ ایک دوسرا سورۂ اخلاص پڑھ رہاتھا، اس کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سورت کے ذریعے اس آدمی کے لئے جنت واجب ہو گئی ہے۔

8849

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8849

Sahih

۔ (۸۸۴۹)۔ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَ شْجَعِیِّ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: دَفَعَ إِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ، وَقَالَ: ((إِنَّمَا أَ نْتَ ظِئْرِی۔))، قَالَ: فَمَکَثَ مَا شَائَ اللّٰہُ ثُمَّ أَ تَیْتُہُ، فَقَالَ: ((مَا فَعَلَتِ الْجَارِیَۃُ أَ وْ الْجُوَیْرِیَۃُ۔))، قَالَ: قُلْتُ: عِنْدَ أُمِّہَا قَالَ: ((فَمَجِیئِیْ مَا جِئْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: تُعَلِّمُنِیْ مَا أَ قُولُ عِنْدَ مَنَامِی، فَقَالَ: ((اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِکَ {قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} قَالَ: ثُمَّ نَمْ عَلَی خَاتِمَتِہَا، فَإِنَّہَا بَرَائَۃٌ مِنَ الشِّرْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی مجھے دی اور فرمایا: تو میری بیٹی کو دودھ پلانے والی عورت کا خاوند ہے۔ جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کومنظور تھا، وہ رہے، پھر جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی وہ اپنی امی کے پاس ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ مجھے یہ تعلیم دیں کہ میں سوتے وقت کیا کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوتے وقت سورۂ کافرون پڑھا کرو، جب یہ ختم ہو تو سو جایا کرو، یہ شرک سے بیزاری اور براء ت کا اعلان ہے۔