Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1800

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان

4 hadiths in this chapter

8843

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8843

Sahih

۔ (۸۸۴۳)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: قَالَ لِی مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ: مَا سَمِعْتَ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍیَذْکُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْکَوْثَرِ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ہٰذَا الْخَیْرُ الْکَثِیرُ، فَقَالَ مُحَارِبٌ: سُبْحَانَ اللّٰہِ مَا أَ قَلَّ مَا یَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہُوَ نَہَرٌ فِی الْجَنَّۃِ حَافَتَاہُ مِنْ ذَہَبٍ، یَجْرِی عَلٰی جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْیَاقُوتِ، شَرَابُہُ أَ حْلٰی مِنَ الْعَسَلِ، وَأَ شَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَ بْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ، وَأَ طْیَبُ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ۔)) قَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ھٰذَا وَاللّٰہِ الْخَیْرُ الْکَثِیْرُ۔ (مسند احمد: ۵۹۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: محارب بن دثار نے مجھ سے کہا: تم نے سعید بن جبیر سے کوثر کے بارے میں سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی کوئی بات سنی ہے؟ انھوں نے کہا:جی انھوں نے کہا ہے کہ کوثر سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا: سبحان اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات معتبر ہی ہوتی ہے، میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: جب {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}نازل ہوئی، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے، اس کے کنارے سونے کے ہیں،یہ موتیوں اور یا قوت کی نالیوں میں بہتی ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور دودھ سے زیادہ سفید اور برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری کی خوشبو سے زیادہ مہک والا ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بالکل سچ کہا، اللہ کی قسم! یہ بہت زیادہ خیر اور بھلائی ہے۔

8844

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8844

Sahih

۔ (۸۸۴۴)۔ عَنْ أَ بِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ: مَا الْکَوْثَرُ؟ قَالَتْ: نَہَرٌ أُعْطِیَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بُطْنَانِ الْجَنَّۃِ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّۃِ، قَالَتْ: وَسَطُہَا حَافَّتَاہُ دُرَّۃٌ مُجَوَّفٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبیدہ بن عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: کوثر کیا چیز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایک نہر ہے، جو جنت کے درمیانی حصے میں واقع ہے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دی گئی ہے، اس کے کناروں پر خول دار موتی ہیں۔

8845

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8845

Sahih

۔ (۸۸۴۵)۔ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَ نَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: أَ غْفَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِغْفَائَۃً فَرَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا، إِمَّا قَالَ لَہُمْ وَإِمَّا قَالُوا لَہُ: لِمَ ضَحِکْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّہُ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} حَتّٰی خَتَمَہَا، قَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: ((ہُوَ نَہْرٌ أَ عْطَانِیہِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ فِی الْجَنَّۃِ، عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیرٌ،یَرِدُ عَلَیْہِ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ، آنِیَتُہُ عَدَدُ الْکَوَاکِبِ، یُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْہُمْ، فَأَ قُولُ: یَا رَبِّ! إِنَّہُ مِنْ أُمَّتِی، فَیُقَالُ لِی: إِنَّکَ لَا تَدْرِی مَا أَ حْدَثُوْا بَعْدَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اونگھ سی آئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیوں مسکرائے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کی تلاوت کی،یہاں تک کہ مکمل سورت پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثرکیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے، جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے، اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے، میری امت قیامت والے دن اس پر میرے پاس آئے گی، اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے، لیکن کچھ بندے مجھ سے روک لئے جائیں گے، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت میں سے ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد (دین میں) کیا کیا اضافے کر دیئے تھے۔

8846

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8846

Sahih

۔ (۸۸۴۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا)فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} [الکوثر: ۱] أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہُوَ نَہَرٌ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَ یْتُ نَہْرًا فِی الْجَنَّۃِحَافَتَاہُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہٰذَا الْکَوْثَرُ الَّذِی أَ عْطَاکَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کے بارے میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: میں نے جنت میں ایک نہردیکھی، اس کے کنارے موتیوں کے خیمے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے، جواللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔